اصحاب احمد (جلد 5) — Page 301
۳۰۵ اخویم مولوی ظفر محمد صاحب فاضل پنشنز پروفیسر جامعہ احمدیہ نے خاکسار مؤلف کی درخواست پر یہ ظم لکھی :- آرہی ہے یاد سرور شاہ کی عشق احمد جن کو لایا کھینچ کر آگئے وہ چھوڑ کر سارا جہاں ادعائے علم و ساداتی غرور حضرت احمد کے دیوانے ہوئے خدمتِ دیں کو بنا اپنا شعار پرداز بہشتی مقبرہ کار نامور احمدیت عالمان ماه رمضان درس قرآں آپ کا تھے مناظر اس قدر وہ کا مگار وہ مقام مد وہ تاریخی خصام مل گیا جس پر غضنفر کا خطاب فقه و منطق ، فلسفه دیگر علوم واہ! وہ لمبی نمازیں آپ کی ہم میں وہ ہمت کہاں طاقت کہاں آپ سا اب کوئی بھی عالم نہیں پاگئے حضرت استاذ عالی جاہ کی ہو گئے قربان حق جو سر بسر بھا گئی دل کو ادائے قادیاں ہو گئے کافور احمد کے حضور شمع نورانی کے پروانے ہوئے وقف کر دی زندگی مستعار نیز استاذ و عمید جامعه۔آپ ہی کے فیض سے ہیں بہرہ ور اقصیٰ میں روحانی فضا مسجد مولوی تھے آپ کا ادنی شکار جب ثناء اللہ پہ کی حجت تمام دیکھئے اعجاز احمد حمید کی کتاب حاضر ذہن صفا تھے بالعموم شاہد ذوق و سرور سرمدی دل میں آتش ہو تو پیدا ہو دھو آں بے مثل تھے مفتی شرع جبیں وہ احمدیت میں مقام رحمت ہو خدا کی والسلام مراد حضرت اقدس کی کتاب اعجاز احمدی“۔