اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 239 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 239

۲۴۳ کی طرف سے تقاضا ہوتا رہا لا يمسه الا المطهرون کے مطابق آپ ایک مطہر رسالہ 'تعلیم الاسلام کے پہلے شمارہ میں مرقوم ہے:- کمیٹی منتظمہ تعلیم نے محض اشاعت کتاب اللہ کی غرض سے یہ رسالہ نکالا ہے۔“ ۲۰۵ اصل غرض اس رسالہ کی۔۔۔قرآن مجید کی تفسیر ہے۔تفسیر بھی وہ جو کہ نور الدین کے درس قرآن مجید کا مجموعہ ہے اور نور الدین بھی وہ جو کہ مرزا غلام احمد کی غلامی کو اپنا فخر جانتا ہے اور مدت دراز سے آپ کے قدموں میں رہنا اور اس کو اپنی ساری عمر کی گراں قیمت کمائی اور نعمت یقین کرتا ہے اور مرزا غلام احمد بھی وہ جس کی نسبت خداوند کریم فرماتا ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مَنْهُمْ۔۔۔۔وَاخَرِينَ مِنْهُمُ اور كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّم - الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآن - اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ أَوْ لَا دِی۔يَحْمَدُكَ اللَّهُ مِنْ عَرْشِهِ جَرِيَ اللَّهُ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاء “ (ص۳) صدر انجمن کی طرف سے ایک ماہوار رسالہ تعلیم الاسلام اس تفسیر کی خاطر جاری کیا گیا۔آپ ہی اس کے ایڈیٹر تھے۔( جلد نمبر اص (۳) اس کے دس پرچے جولائی ۱۹۰۶ء تا اپریل ۱۹۰۷ء میں تین صد چونتیس صفحات میں تفسیر شائع ہوئی۔( یہ رسالے اصل حالت میں نہیں مل سکے۔معلوم ہوتا ہے کہ ہر بار چند صفحات میں تفسیر کے سوا بھی مواد درج ہوتا جیسا کہ بدر ۰۶-۸-۶ کے اقتباس سے جو آگے متن میں درج ہے تصدیق ہوتی ہے ) کل چار صد صفحات میں سے تفسیر کے تین صد چونتیس صفحات ہیں۔ان شماروں کے بعد یہ رسالہ بند کر کے ریویو آف ریلیجنز (اردو ) میں بطور ضمیمہ اس تفسیر کی اشاعت کا انتظام مناسب سمجھا گیا۔چنانچہ جلد نمبر ۵ تا جلدے نمبر ا میں مئی ۱۹۰۷ء تا جنوری ۱۹۰۸ ء ا یک صداسی صفحات اس بارہ میں اشاعت پذیر ہوئے۔اس مرحلہ پر اس تفسیر کے لئے ایک سہ ماہی رسالہ ” تفسیر القرآن‘صدر انجمن نے جاری کیا۔جو مارچ ۱۹۰۸ء تا ستمبر ۱۹۱۲ء جاری رہا اور اس میں ایک ہزار پانصد اڑتالیس صفحات میں تفسیر درج ہوئی۔پہلا شمارہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۸ء کو طبع ہوا لیکن اسے جلد ۳ کا پہلا شمارہ قرار دیا گیا ہے۔غالباً رسالہ تعلیم الاسلام اور ضمیمہ ریویو میں شائع شدہ تفسیر کو دوجلدمیں قرار دیا ہوگا۔سور سالہ تفسیر القرآن جلد ۳ نمبرا اسے جلد نمبر ۲ تک جاری رہ کر بند ہو گیا۔جس کے لئے آپ کے تقرر بطور ایڈیٹر کا فیصلہ زیر نمبر ۲۸۴ مورخہ ۰۸-۶-۲ ہوا تھا۔