اصحاب احمد (جلد 5) — Page 238
۲۴۲ -۱۰ تفسیر القرآن و درس الحديث والفرقان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے عہد مبارک میں ہی حضرت مولوی صاحب کی تفسیر قرآن کو شرف استناد حاصل ہو گیا تھا۔اس مبارک زمانہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کی عدم حاضری میں آپ ہی قرآن مجید کا درس دیتے تھے۔اور خلافتِ اولی میں بھی یہی صورت قائم رہی جب تک کہ آخری ایام میں حضرت خلیفہ اول نے امامت صلوٰۃ اور درس کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کو مقرر نہیں فرما دیا۔۱۹۷ حضرت اقدس کے زمانہ میں حضرت مولوی صاحب کی تفسیر کی اشاعت کے لئے خاص اہتمام کیا گیا تھا۔پانصد باون صفحات حضور کے عہد مبارک میں شائع ہوئے۔آپ نے اس تفسیر میں نہایت قابلیت سے نہ صرف حضرت مولوی نورالدین صاحب کی تفسیر ہی محفوظ کی ہے بلکہ نہایت محققانہ اور فاضلہ انداز میں اس پر اضافے کئے ہیں اور جابجا انمول موتی بکھیرے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس اہم خدمت کو بابرکت بنایا اور اسے سند قبول عطا ہوئی اور اس کے متعلق احباب جماعت بقیہ حاشیہ: - (۱۶) ایک سوال کا جواب۔یہ مضمون افک کے بارے میں ہے۔اس سے پہلے مرقوم ہے:- وو عالم حقائق آگاہ مولانا محمد سرور شاہ صاحب نے ایک سوال کا جواب اس عالمانہ اور محققانہ رنگ میں دیا ہے۔جس کی ان سے توقع کی جاسکتی تھی۔‘ ۱۹۸ (۱۷) وفات مسیح پر ایک نئی دلیل‘۔199 صفحہ، اپر طبقات محمد بن سعد والی حدیث آپ ہی نے پیش کی اور احمد یہ لٹریچر میں شامل کی۔(۱۸) عرفان الہی اور محبت باللہ کا عالی مرتبہ جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘۲۰۰ اس متوقع خاتم النبین نمبر کا اعلان کرتے ہوئے کچھ بزرگوں بشمول مولوی صاحب کے مضامین کا ذکر کیا گیا ہے۔۲۰۱ (19) الحکم جو بلی نمبر ( دسمبر ۱۹۳۹ء) کے متعلق آپ کی نمایاں قابل قدر راور دقیع تقریظ۔۲۰۲ (۲۰) درود ابراہیمی کے متعلق ایک سوال اور اس کا جواب۔۲۰۳ (۲۱) لغات القرآن نام کتاب سید عبدائمی صاحب نے عربی میں تالیف کی ساتھ ہی حضرت مولوی صاحب کا ترجمہ شائع ہوا۔۲۰۴