اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 233 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 233

۲۳۷ کرنے کے واسطے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اگر چہ اس وقت قادیان میں مقیم اکثر مہاجر ایسے تھے جو اس نیت سے قادیان میں آبیٹھے ہوئے تھے کہ دینی خدمات کے بقیہ حاشیہ: - (۸) مقامی انجمن کے زیر انتظام مسلمانانِ کشمیر کے حقوق کی حفاظت کے تعلق میں تقریر، مزید صرف ایک اور تقریر ہوئی اور قراردادیں منظور کی گئیں۔۱۶۹ بعض دیگر مواقع کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے:۔(۱) ۱۸۹۷ء میں جب آپ پشاور کالج میں پروفیسر تھے۔حضرت مرزا رمضان علی خان صاحب سے احمدیت کے متعلق تبادلہ خیالات کرتے تھے۔کا (۲) مؤقر الحکم راقم ہے :- ۲۰ فروری ۱۹۱۴ ء کی صبح کو دس بجے کے قریب احباب آپ ( یعنی حضرت خلیفہ اوّل۔ناقل ) کے پاس موجود تھے اور ڈاکٹر صاحبان آپ کی غذا کا اہتمام کر رہے تھے۔مولانا سید سرور شاہ صاحب اور حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی ایک مناظرہ پر جانے والے تھے۔آپ نے اس وفد کو با وجود اپنی بیماری کی حالت کے دعاؤں کے ساتھ ( شیعہ صاحبان سے مناظرہ کے بارے۔ناقل ) مناسب ہدایات دے کر روانہ کیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حالت میں بھی جو چیز آپ کو پسند ہے وہ اشاعتِ دین ہے۔“ اسکا (۳) ماسٹر عبدالرحمن صاحب (سابق مہر سنگھ ) کی تبلیغ کے باعث موضع کھارا نز د قادیان کے احباب نے خواہش کی مولوی نواب الدین صاحب ستکو ہی سے مذہبی گفتگو ہو اور وعدہ حفظ امن پر ی گفتگو ہو اور وعدہ حفظ امن پر ” حسب انتخاب امیر ( یعنی حضرت خلیفہ اول) مولوی سرور شاہ صاحب ، حافظ روشن علی صاحب اور سید عبدائمی صاحب عرب تشریف لے گئے۔۱۷۲ (۴) اٹاوہ (یو پی) میں تقریر کرنا اور مونگھیر (بہار) کے جلسہ کے لئے جانا (ماہوار رپورٹ مندرجہ ریویو آف ریلیچز ( اردو ) بابت ۱۹۱۰ ء (ص ۴۳۷) ۱۰-۱۰-۱۳ کو اٹاوہ میں آپ نے آریہ مذہب و دیگر مذاہب پر اسلام کی فضیلت کے بارے میں دو گھنٹے تقریر کی۔۱۷۳ مفتی محمد صادق صاحب رقم فرماتے ہیں:۔قادیان سے چلنے کے وقت ہم تین تھے۔باتفاق مولوی سرور شاہ صاحب کو اپنا