اصحاب احمد (جلد 5) — Page 232
کر دیا اور اس عہد کو تادم واپسیں نہایت خوبی سے نبھایا۔چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ذکرِ حبیب" میں تحریر فرماتے ہیں :- ’۱۹۰۷ ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔اب سلسلہ 6616 کا کام بڑھ رہا ہے اس بات کی ضرورت ہے کہ بعض نوجوان دور و نزدیک تبلیغ کا کام بقیہ حاشیہ : - (۷) ۱۹۲۴ء میں آپ نے وفات مسیح پر تقریر میں قرآن شریف سے اچھوتے استدلال فرمائے اور ایک حدیث پیش کی جو ایک نئی دلیل تھی۔‘ ۱۵۹ (۸) ۱۹۲۵ء ضرورت وصیت ( الفضل ۲۶-۴-۲۰ اور ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) بابت فروری ١٩٢٦ ء ص ۲ (۹) ۱۹۲۷ء احباب کی ترغیب کے لئے بشمول مولوی صاحب گیارہ بزرگوں کی متوقع تقاریر کا اعلان ۱۶۰ تقریر بابت سیرۃ حضرت مسیح موعود 111 (ج) متفرق تقاریر :- (۱) حضرت مولوی نور الدین صاحب کی صدارت میں مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایک جلسہء عام میں مولوی سرورشاہ صاحب کی تقریر بھی ہوئی۔۱۶۲ (۲) ۲۷-۷-۱۳ کو موسمی تعطیلات ہونے پر ایک جلسہ میں آپ نے اور بعد ازاں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) نے طلباء کو ان کے فرائض کے متعلق خطاب کیا۔۱۶۳ (۳) حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے متعلق مبلغین کی اعلیٰ کلاس میں تقریر۔۱۶۴ (۴) ۴-۸-۱۸ کو ایک جلسہ میں صرف آپ کی تقریر ہوئی۔۱۶۵ (۵) ایک خوشی کی خبر پر مدارس میں تعطیل کی گئی اور مسجد مبارک میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔اس میں صرف آپ کی تقریر ہوئی۔۱۶۶ (1) حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مدرسہ تعلیم الاسلام میں ۱۹۲۰ء میں دینی تقریروں کا آغاز کیا تا کہ طلبہ کو دین سے واقفیت ہو اور فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اٹھارہ سال قبل یہ انتظام جاری کیا تھا اور حضرت خلیفہ اول ، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے لیکچر دیے تھے۔۱۲۷ (۷) ذکر حبیب پر تقریر ہونا۔۱۲۸