اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 234 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 234

۲۳۸ سرانجام دینے میں اپنی بقیہ زندگی بسر کر دیں۔تاہم نوجوانوں کے علاوہ بعض اور دوستوں نے بھی زندگی وقف کرنے کے عہد کی درخواستیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ بقیہ حاشیہ - امیر تسلیم کیا جنہوں نے نہ صرف امارت کا حق ادا کیا بلکہ نمازوں میں امامت بھی کرا کر ہمارے لئے صدر دین بن گئے اور فیضانِ راہ کی خدمت بھی اس طرح ادا کرتے رہے کہ گویا اس سفر میں ان کا بڑا مقصد یہ تھا کہ ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد والی مثال کو عملی رنگ میں صحیح ثابت کر کے مخدوم صادق بن جائیں۔“ (ص۲) المؤمن يَرَى وَيُری لَہ کا نظارہ ہمیں اس سفر میں نظر آتا ہے۔مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ اٹاوہ میں نماز میں مولوی صاحب نے سورۃ اعراف کا وہ حصہ پڑھا جس میں آیتُ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ آتا ہے۔بعد نماز میر صادق حسین صاحب اٹاوی نے اپنی نوٹ بک میں سے چار سال پرانی رؤیا دکھائی کہ قادیان سے اٹاوہ میں ایک جماعت احمدی برادران کی آئی۔میں ان سے ملا۔ایک صاحب نے یہ آیت پڑھی۔(ص۹) مفتی صاحب اور مولوی صاحب کے اس سفر پر جانے کا ذکر کر کے لکھا ہے :- اللہ انہیں فائز المرام لائے۔۴ کلا (۵) رپورٹ ہائے سالانہ بابت ۱۱-۱۹۱۰ء (ص ۴۳ ) ،۱۲-۱۹۱۱ء (ص ۶۵) میں واعظین ومبلغین میں جو مختلف مقامات پر تشریف لے گئے آپ کا نام بھی شامل ہے۔(۶) عہد خلافت اولی میں حضرت مولوی عبدالواحد صاحب سکنہ برہمن بڑیہ ( بنگال ) کی درخواست پر کہ علماء کا ایک وفد تبلیغ کے لئے بھجوایا جائے۔حافظ روشن علی صاحب، میر قاسم علی صاحب ، مولوی سرور شاہ صاحب، مولا نا غلام رسول صاحب را جیکی اور مولوی مبارک علی صاحب سیالکوئی بھجوایا گیا۔۱۷۵ (۷) جب آپ اور بعض دیگر احباب اکتوبر ۱۹۱۲ء میں شملہ تقریریں کرنے گئے تو بدر نے لکھا: - ” خدا تعالیٰ ان کو سالما غانماً واپس لائے۔‘ ۶ کا (۸) ۱۹۱۲-۱۳ ء میں آپ اور بعض دیگر احباب کو حسب اجازت حضرت خلیفہ اول بغرض تبلیغ بھجوانا۔کا (۹) تا ۱۶) دیگر دو بزرگوں کے ہمراہ ملتان جانا۔آپ اور میر محمد الحق صاحب کا دورہ پر جانا۔بطور واعظ سفر پر ہونا۔میر قاسم علی صاحب، چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور آپ کا شرکت جلسہ کے لئے میرٹھ جانا۔جلسہ کے الاعراف: ۵۷