اصحاب احمد (جلد 5) — Page 143
۱۴۷ والے کنویں کے بالکل مغرب کی طرف ہے دیا گیا ہم دو ماہ وہاں ٹھہرے۔ان ایام میں مرزا خدا بخش صاحب ملازم حضرت نواب محمد علی خان صاحب قادیان میں نہیں تھے اور ان کی رہائش والا کمرہ جو گلابی کمرہ“ کے نام سے معروف تھا حضرت مفتی محمد صادق صاحب مع اہل و عیال اس میں مقیم تھے۔اس وقت مشرقی ڈیوڑھی کے بقیہ حاشیہ:- (و) لڑکی کے والد کا ذکر ہے کہ مجلس نکاح میں (و) البدر اس کا مصدق ہے۔موجود تھے۔(ز) یہ نکاح ۱۶ / مارچ ۱۹۰۳ء کو ہونا مرقوم ہے۔(ز) آپ کے اور آپ کی اہلیہ صاحبہ کے بیان سے تصدیق ہوتی ہے کہ نکاح کے دس پندرہ روز بعد رخصتانہ ہوا جو ۲۷ یا ۲۸ مارچ کو ہوا ( تفصیل آگے آئے گی) (ح) رمضان شریف کے بعد قریب کے عرصہ میں (ح) اس کی تفصیل بھی آگے درج ہے جس سے تصدیق ہوتی ہے۔نکاح ہوا۔ایک آدھ امر کی تصدیق نہیں ہوتی لیکن مرور زمانہ کے باعث اس کے بیان میں سہو ہونا ممکن ہے اور وہ امور ذیل ہیں :- (1) البدر میں مہر ڈیڑھ صد مرقوم ہے۔مولوی صاحب دوصد بیان کرتے ہیں آپ کی اہلیہ محترمہ ذکر کرتی ہیں کہ شاید دوصد تھا۔گویا ان کو خود اقرار ہے کہ پوری طرح یاد نہیں۔اسی پر قیاس ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کو بھی پوری طرح یاد نہیں رہا ہوگا۔بیوی نے مہر حاصل کرنا ہوتا ہے اور خاوند کے ذمہ تا ادا ئیگی قرض ہوتا ہے۔اس لئے قریب الفہم یہ امر نظر آتا ہے کہ بیوی کو زیادہ یادر ہنا چاہیئے لیکن چونکہ ہمارے ملک میں وصول جلد ہونے پر اصرار نہیں ہوتا۔اس لئے یہ امر زیادہ یاد نہیں رہتا۔(۲) مولوی صاحب ظہر کے وقت نکاح ہونا بیان کرتے ہیں اور یہ نکاح تو قبل عشاء پڑھا گیا اس بارہ میں خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرورِ زمانہ سے اس بارہ میں نسیان ہو جانا معمولی امر ہے۔حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب (نومسلم) کو اپنی والدہ کا نام بھول گیا تھا جو بات بار بار سامنے نہیں آتی اس کے نسیان کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔(۳) مولوی صاحب ذکر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عباداللہ صاحب قادیان میں اعتکاف بیٹھے اور عید قادیان میں