اصحاب احمد (جلد 5) — Page 142
۱۴۶ حلیمہ بیگم مرحومہ اس مکان میں اپریل ۱۹۰۶ء میں پیدا ہوئیں۔وہ تین ماہ کی تھیں کہ ہمارے ہمسایہ میں سکھوں میں طاعون سے موتیں ہونے لگیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے از خود ہمیں اپنے گھر میں بلوالیا اور ہمیں دارا مسیح کے نچلے حصہ کا مغربی کمرہ جو مغربی ڈیوڑھی کے ساتھ جنوب کی طرف ملحق ہے اور صحن حضرت مولوی صاحب نے مجھے مؤلف سے بیان کیا تھا کہ جو گلی قصر خلافت کو بازار کی طرف سے جاتی ہے اس کا ایک مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں ابتدائی زمانہ میں میں رہتا تھا اور اسی مکان سے بلوا کر حضور نے مجھے پہلی بار جمعہ پڑھانے کو ارشاد فرمایا تھا۔بقیہ حاشیہ: سو مولوی صاحب کے بیان کردہ مندرجہ ذیل امور کی تصدیق ہوتی ہے:۔قرائن تصدیق (الف) مجلس نکاح میں حضرت اقدس موجود (الف) یہ حضرت اقدس کی ڈائری کا حصہ ہے اور آپ کی اہلیہ صاحبہ بھی تصدیق کرتی ہیں کہ تھے۔حضرت اقدس مجلس نکاح میں موجود تھے اور دعا میں شریک ہوئے۔(ب) مولوی صاحب نے سُسرال کے پیشہ و (ب) تبھی یہ مرقوم ہے کہ ایک صاحب جو کہ اپنا روزگار کو اپنے خاندانی روایات کے خلاف سمجھا۔نام اظہار کرنا نہیں چاہتے۔گویا مولوی صاحب کی خواہش کے مطابق فریقین کے اسماء ڈائری میں سے حذف کئے گئے۔(ج) خطبہ نکاح حضرت مولوی نورالدین صاحب (ج) ڈائری اس کی مصدق ہے اور آپ کی اہلیہ صاحبہ بھی تصدیق کرتی ہیں۔نے پڑھا۔(1) لڑکی جس کا نکاح ہوا امرت سر کی تھی۔(د) ڈائری میں اس کا ذکر ہے۔(ھ) لڑکا قادیان کا تھا۔(ھ) اسماء حذف کر کے لڑکے کے خسر کا ہی صرف ذکر کیا ہے کہ امرت سر کے ہیں۔اگر لڑ کا قادیان سے باہر کا ہوتا تو اس کے شہر کا بھی ذکر کیا جاتا۔یہ خاموشی اسی لئے ہے کہ اس سے یہ سمجھ لیا جائے گا کہ لڑکا قادیان کا ہے۔