اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 66 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 66

۶۶ مد کو روانگی اور اس کی غرض محمد یوسف صاحب اپیل نویس مردان کی درخواست پر حضرت اقدس نے ان کے ہمراہ ۲۶ اکتوبر کو سید سرور شاہ صاحب اور مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری کو ان کے گاؤں مد تحصیل اجنالہ میں اس لئے روانہ کیا کہ وہاں احمد یہ مشن کی تبلیغ کریں اور ضرورت پڑے تو مہذبانہ طریق سے مباحثہ کریں۔“ ہے۔مباحثه مد : میاں محمد یوسف صاحب کے والد پشاور کی طرف تحصیلدار رہے تھے۔چونکہ میاں محمد یوسف صاحب کی ایک آنکھ میں نقص تھا اس لئے وہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور مردان میں اپیل نویسی کا کام کرنے لگے۔ان کے دو چھوٹے بھائی تھے۔مباحثہ مذ کے وقت ان میں سے بڑا بھائی غیر احمدی اور چھوٹا بھائی احمدی تھا۔میاں صاحب اپنے منجھلے بھائی کو علاج کے لئے قادیان لائے تھے اور جن کا مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے بہت توجہ سے علاج کیا اور وہ صحتیاب ہو گئے۔بعد میں چھوٹا بھائی بھی احمدی ہو گیا۔میاں صاحب اپنے بھائیوں کو ملنے کے لئے مد جا رہے تھے۔لاہور سے ان کے ساتھ ان کی برادری کا ایک شخص ہم سفر ہوا۔اس نے کہا کہ احمدی اور غیر احمدی مولویوں کے درمیان مباحثہ کرایا جائے۔وہ خود وہابی تھا۔اس نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ مباحثہ کرانا چاہا اور مولوی صاحب کو لانے کا ذمہ لیا۔میاں صاحب قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کا ذکر کیا۔تو حضور نے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کو مباحثہ کے لئے جانے کو کہا۔چنانچہ مولوی صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب کشمیری نے یکہ پر قادیان سے امرتسر تک اور وہاں سے اجنالہ اور اجنالہ سے شاہدرہ کے پاس سے گذرتے ہوئے مد تک سفر کیا۔مؤخر الذکر بطور منشی کے ہمراہ لئے گئے تھے۔حضرت مولوی صاحب چونکہ زمانہ طالب علمی سے مولوی ثناء اللہ صاحب سے واقف تھے۔علاوہ ازیں مولوی نظام الدین صاحب احمدی سے ان کا امرتسر میں مباحثہ ہوا تھا وہ حضرت مولوی صاحب کے سامنے ہوا تھا۔آپ کو علم تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی عادت ہے کہ ہمیشہ اصول مناظرہ کی آڑ لیتے ہیں اور کبھی خود مدعی نہیں بنتے اور ہمیشہ یہی کوشش کرتے ہیں کہ فریق ثانی مدعی بنے تا کہ بار ثبوت اس کے ذمہ رہے۔اصل