اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 67 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 67

۶۷ موضوع زیر بحث وفات مسیح " تھا۔حضرت مولوی صاحب نے اس کی تقسیم پانچ حصوں میں اس رنگ میں کی کہ پہلے حصوں میں حضرت مولوی صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب دونوں مدعی ہوں اور آخری مضمون زیر بحث میں حضرت مولوی صاحب مدعی ہوں تا کہ آخری تقریر آپ کی ہو۔مثلاً پہلا مضمون وفات مسیح اور حیات مسیح کا تھا۔اس میں وفات مسیح کے لحاظ سے حضرت مولوی صاحب مدعی اور حیات مسیح کے لحاظ سے مولوی ثناء اللہ صاحب مدعی تھے۔دوسرا مضمون یہ تھا کہ جو مرتا ہے وہ زندہ ہو کر اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں آتا۔اس میں دنیا بھی حضرت مولوی صاحب مدعی تھے۔پانچواں اور آخری مضمون صداقت مسیح موعود علیہ السلام تھا۔اس میں حضرت مولوی صاحب مدعی تھے اور آخری تقریر آپ ہی نے کرنی تھی۔شرائط کے لحاظ سے مدعی کی پہلی اور آخری تقریر تھی اور پہلے دو اور آخری مضامین میں حضرت مولوی صاحب کی پہلی اور آخری تقریر تھی۔اس طرح ہر مضمون کے تین پرچے ہوتے اور یہ بھی شرط تھی کہ پرچے لکھ کر پڑھے جائیں گے اور اگر تحریر میں کسی قسم کی کمی رہ جائے گی تو سُناتے وقت اس کمی کو زبانی تقریر کے ذریعہ پورا کرنے کی اجازت ہوگی۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے شرائط منظور نہ کیں۔اس لئے کہ انہیں مدعی بنا پڑتا تھا اور یہ امران کی عادت کے خلاف تھا اور مباحثہ سے انکار کر دیا۔حضرت مولوی صاحب واپسی کے لئے کھانا کھا کر فارغ ہوئے۔مُدّ کے ساتھ ایک بڑا قصبہ پہلو وال ہے۔وہاں کے رہنے والے احمد علی نام ایک دوست آئے۔وہ غالبا گکے زئی تھے اور امرتسر میں بود و باش رکھتے تھے۔انہوں نے مباحثہ کے متعلق دریافت کیا انہیں بتایا گیا کہ یہ شرائط ہیں اور مولوی صاحب نے انہیں نا منظور کر دیا ہے۔احمد علی صاحب نے کہا کہ شرائط مجھے دیجئے میں مولوی صاحب کے پاس جاتا ہوں یہ شرائط بالکل قرین انصاف اور معقول ہیں۔چنانچہ تھوڑی دیر میں واپس آ کر کہا کہ مبارک ہومولوی ثناء اللہ صاحب مان گئے ہیں۔صرف ایک بات آپ سے منوانا چاہتے ہیں وہ آپ مان لیں اور بات بھی انصاف والی ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ ہار جائیں تو مولوی ثناء اللہ صاحب کی بیعت کر لیں۔حضرت مولوی صاحب نے کہا کہ اگر چہ آپ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے لیکن دراصل بے رحمی کی ہے۔میں حضرت مرزا صاحب پر اس شرط پر ایمان نہیں لایا کہ میں بڑا مولوی ہوں اور مباحثہ میں جیتوں تو وہ بچے ہیں بلکہ میں نے آپ کو اس لئے قبول کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔جب میرے نزدیک آپ ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہو چکے ہیں تو اب میں خواہ جیت جاؤں یا ہار جاؤں وہ بہر حال صادق ہیں۔یہ بات احمد علی کو سمجھ آگئی اور ان کے دل لگی اور انہوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو کہا کہ یہ شرط غیر مناسب ہے