اصحاب احمد (جلد 5) — Page 596
۶۰۲ صورت میں اگر مسروقہ زیور کا سسرال کی طرف سے مطالبہ ہو تو شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ فتوی شریعت اسلام نے عام صورتوں میں سخت ممانعت فرمائی ہے کہ مرد عورت کو جدا کرتے ہوئے کوئی چیز اس میں سے لے جو کہ اس نے اس کو دی تھی۔سورہ نساء ع۳ میں فرمایا ہے۔وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ ج ط زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَ اتَيْتُمُ إِحْدَاهُنَّ قِطَارًا فَلَا تَاخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَاخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَّ إِثْمًا مُبِينًا وَكَيْفَ تَاخُذُونَهُ وَقَدْ اقْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ وَّ اَحْذَنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا عَلِيْظًا -٣ یعنی اگر تم ایک عورت کو علیحدہ کر کے اس کی جگہ دوسری شادی کرنی چاہتے ہو اور ایسے وقت میں تمہیں مال کی ضرورت بھی ہوگی تاکہ اس کے ذریعہ سے دوسری شادی کر سکو۔اور یہ مزید خرچ پہلی کی جدائی ہی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔۔اور تم نے اس کو ڈھیروں ڈھیر مال دیا ہوا ہو۔تو اس میں سے کوئی چیز بھی مت لو۔کیا تم بہتان اور کھلے کھلے گناہ کے طور پر مال لیتے ہو۔حالانکہ تم ایک دوسرے تک پہنچ چکے ہو جس کی وجہ سے تم نے مال دیا تھا۔اور انہوں نے تم سے مضبوط عہد لیا ہوا ہے۔سورۂ بقرہ میں طلاق کے ذکر کے بعد فرمایا ہے۔وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَاخُذُوا مِمَّا اتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَّخَا فَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَا اللَّهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ - ۸۴ یعنی بیوی کو جو کچھ بھی تم نے دیا ہے جدا کرتے ہوئے تمہارے لئے حلال نہیں کہ اس میں سے کچھ بھی لو۔ہاں صرف ایک صورت ہے کہ بیوی خاوند دونوں ڈریں کہ اب اگر تم جدا نہ ہوئے اور ساتھ رہے تو تم اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکو گے۔پھر خالی ان دونوں کے اس ڈر سے عورت سے کچھ لینا مرد کے لئے کچھ جائز نہیں ہوسکتا۔بلکہ قوم کے نمائندوں قاضی اور ثالثوں کو بھی یہ خوف پیدا ہو جاوے کہ اب یہ دونوں خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو پھر ان دونوں پر آپس میں کوئی گناہ نہیں جو کہ عورت نے اپنے آزاد کرنے میں بطور فدیہ اور بدل کے دیا ہے۔ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خاوند کو یہ حق تو ہرگز حاصل نہیں کہ جو کچھ اس نے دیا ہوا ہے اس کو واپس لے۔بلکہ ضلع اس پر ہوگا کہ جو عورت بطور فدیہ دے خواہ سب کچھ ہو جو خاوند نے دیا ہے یا اس کے برابر ہو یا اس کا کچھ حصہ یا اس کے کسی حصہ کے برابر ہو۔ہاں عورت اگر اس سے زائد دے جو کہ مرد نے اس کو دیا ہے تو مرد کو زائد لینا شرعاً نا پسند کیا گیا ہے۔یہ اس صورت میں ہے جبکہ آپس میں خلع کا فیصلہ ہو۔اور اگر قاضی یا حکم خلع کا فیصلہ کریں تو پھر قاضی اور حکم جو فد یہ مقرر کریں اس پر خلع ہوگا۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک عورت کی شادی ہوئی تو اس نے نبی کریم کی خدمت میں خاوند کے متعلق ایک ایسی شکایت کی۔جس کی تحقیق کی کوئی ضرورت نہ تھی تو حضور نے فرمایا کہ کیا تو وہ باغ اس کو