اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 595 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 595

۶۰۱ کوئی ایک فوت ہو جائے۔اگر باپ فوت ہوتا ہے تو باپ کی وفات پر باپ کی جائیدا دمتروکہ سے لڑکوں اور لڑکیوں اور دیگر اقرباء اور ورثاء میں تقسیم کیا جاوے گا۔ماں فوت ہوتی ہے تو ماں کے مال کو تقسیم کیا جائے گا۔اور اگر دونوں فوت ہوتے ہیں تو دونوں کا مال تقسیم ہو گا۔اور یہ تقسیم اس وقت کی جاتی ہے جبکہ میت کی تجہیز وتکفین کی جاوے اور بعدہ اس کے قرضہ جات کو اس کے مال سے بیباق کیا جاوے اور ان کے بعد اگر اس نے کوئی اور بھی وصیت کی ہو۔( جو کہ زیادہ سے زیادہ ۱/۳ مال کی ہو سکتی ہے ) ان تینوں کے بعد جو میت کا مال بچے گا اس سب مال کو ان کے ورثاء میں اس نسبت سے تقسیم کیا جاوے گا جو کہ اسلام نے مقرر کی ہے۔اور اس وقت لڑکیوں کو بھی حصہ ملے گا۔ہر ایک وارث کا حصہ متعد دصورتوں کے لحاظ سے مقرر شدہ ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ میت کے حصہ داروں میں وارثوں کا پتہ دیا جائے کہ فلاں شخص فوت ہوا ہے اس کے یہ یہ وارث زندہ موجود ہیں۔خواہ وہ بچہ ہو یا بوڑھا اور جتنے جتنے ہوں ان کی تعداد سے آگاہ کیا جائے تو پھر حصہ بتلایا جا سکتا ہے۔کیونکہ بعض حصہ داروں کی موجودگی میں بعض حصوں میں کمی بیشی ہو جایا کرتی ہے۔اور اگر وہ نہ ہوں تو اور صورت ہو جایا کرتی ہے۔اس لئے سب وارثوں کا پتہ دیا جائے اور ان کی تعدا دا الگ بھی بتلائی جاوے کہ اس کے اتنے بیٹے اتنی بیٹیاں، اتنی بھتیجیاں، اتنے بھیجے یا پوتے وغیرہ ہیں۔باقی اس امر کا جواب کہ لوگ لڑکیوں کو جائیداد نہیں دیتے ان کو جماعت سے خارج نہیں کیا جاتا یہ ہے کہ لڑکیوں کو حصہ نہ دینا بہت بڑی غلطی بلکہ گناہ ہے۔کیونکہ جب اسلام نے حکم دیا ہے کہ جب کوئی مرجائے تو اس کے وارث انصاف و عدل سے اس کا ورثہ شریعت کے موافق تقسیم کریں۔اگر لڑکیاں ہیں تو جو ان کا حصہ ہے وہ ان کو دینا چاہئے۔خواہ وہ کنواری ہوں یا شادی شدہ خواہ ایک ہو یا زیادہ۔اس میں والدین کا کوئی قصور نہیں۔کیونکہ ورثہ وفات کے بعد ہی تقسیم ہوگا اور والدین فوت ہو گئے ہیں۔البتہ رشتہ داروں کا ہی گناہ ہے ایسے رشتہ داروں کو جماعت سے خارج نہیں کیا جاتا وہاں اگر آپ دفتر میں اطلاع دیں تو ایسے لوگوں کی وصایا منظور نہ کی جائیں۔(۳۳-۰۵-۲۰) ۳۱- کیا زیور مہر کا حصہ ہے استفتاء۔زید کی لڑکی کی شادی بکر کے لڑکے سے ہوئی شادی کے وقت زید نے اپنی لڑکی کو کچھ زیور دیا اور کچھ زیور سے سسرال کی طرف سے بھی ملا۔بعد ازاں لڑکی سسرال میں کچھ دن گزار کر اپنے زیورات پہن کر میکے گئی۔اور وہاں جا کر کچھ دن کے بعد سارا زیور علاوہ گھر کے اور کچھ سامان کے چوری ہو گیا اس کے بعد لڑکی کو اس کا خاوند اپنے گھر لایا۔چند ماہ بعد ایسے حالات رونما ہوئے کہ لڑکی خلع کر لینے پر مجبور ہوئی۔ایسی