اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 526 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 526

۵۳۱ وغیرہ میں صدر انجمن احمدیہ کی زمینوں کو پلاٹ وغیرہ بنا کر فروخت کرنے اور قادیان کی آبادی کو ریلوے لائن سے دوسری طرف آباد کرنے وغیرہ کا کام بھی کیا۔اور حضرت مولوی صاحب آپ کے کام سے آپ پر اس قدر خوش ہوئے کہ آپ کو صدر انجمن احمدیہ کا مختار عام بنا دیا گیا۔اور آپ کے ماتحت کارکن صدرانجمن احمد یہ کا پہلا مختار عام منتخب ہوا۔حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ جیسے بزرگوں کے متعلق ہی کسی نے کہا ہے آنا نکہ بیک نظر خاکسار کیمیا کنند ( ج ) ہمارے بعض بزرگان کرام کی قادیان میں یہ عادت تھی کہ وہ کچھ وقت نکال کر احمد یہ بازار کی دکانوں میں بھی بیٹھا کرتے تھے۔میرے خیال میں اس کے دو فائدے تھے۔اول یہ کہ قادیان کے عام احمدی احباب ان سے بلا تکلف مل کر باتیں کرسکیں۔کیونکہ مساجد میں تو کوئی دنیاوی بات کرنا منع ہے۔اور گھروں یا دفتروں میں ملنے سے دونوں کو تکلیف کا امکان ہوتا ہے۔دوم یہ کہ باہر سے جو مہمان وغیرہ آئے ہوں وہ بھی آتے جاتے ان سے مل سکیں۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب، حضرت میر قاسم علی صاحب احمد یہ کتاب گھر میں۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب حکیم نظام جان صاحب کی دکان میں اور حضرت مولوی سید محمد سرورشاہ صاحب حکیم عبد الرحمن صاحب کا غانی کے دواخانہ میں عموماً تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔حکیم عبدالرحمن صاحب کاغانی مرحوم و مغفور اچانک نسبتا چھوٹی عمر میں انتقال کر گئے۔بوقت وفات ان کے بچے ابھی بہت چھوٹے تھے لیکن آپ نے ان کے اہل وعیال کو مشورہ دیا کہ وہ دوا خانہ جاری رکھیں۔جس پر مرحوم کے فرزند ( حکیم ) عبدالقدیر صاحب نے عمل کیا اور دواخانہ جاری رکھا اور حضرت مولوی صاحب نے ان کے دواخانہ میں زیادہ رونق افروز رہنا شروع کر دیا۔اور چونکہ حضرت مولوی صاحب کو علم طب میں بھی دسترس حاصل تھی اور آپ اس کا باقاعدہ مطالعہ کرتے رہتے اور طبعی رسائل بھی منگواتے رہتے تھے اس لئے اس لحاظ سے بھی ان کی مدد فرماتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حکیم عبدالرحمن صاحب کا غانی مرحوم و مغفور کا دواخانہ بھی جاری رہا۔اور ان کے اہل وعیال کی معیشت کا سامان بھی ہوتا رہا۔یہ تین مثالیں حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ کی سیرت پر نہایت اعلیٰ درجہ کی روشنی ڈالتی ہیں۔اور محض اللہ تعالیٰ کی خاطر بنی نوع انسان کی ہمدردی کا ایک اچھا نمونہ ہیں اور اِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُونَ 19 کی عملی تفسیر ہیں۔فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۹) جب حضرت خلیفہ اسی اول رضی الہ عنہ بھی علیل ہوتے یا آخری ایام میں گھوڑے سے گرنے کے سبب سے مستقل طور پر علیل ہو گئے تو آپ حضرت خلیفتہ المسیح اول کے ارشاد کے مطابق مسجد اقصیٰ میں آپ کی نیابت میں قرآن شریف کا درس دیتے تھے۔آپ کے اس درس کے نوٹ اخبار بدر میں چھپے ہوئے موجود ہیں۔