اصحاب احمد (جلد 5) — Page 527
۵۳۲ اور شائع شدہ ” درس القرآن میں بھی حضرت خلیفتہ اسیج اول رضی اللہ عنہ کے درسوں میں آپ کے نام سے موجود ہیں۔اور ہماری جماعت میں مکمل قرآن مجید کا تحت اللفظ اردو ترجمہ بھی سب سے پہلے آپ کا ہی برادران میاں محمد اسمعیل صاحب ومحمد عبد اللہ صاحب جلد سازان قادیان کے ذریعہ شائع ہوا اور ایک نہایت ہی قیمتی ترجمہ ہے۔جس کی قدرو قیمت کا اندازہ علماء کرام ہی لگا سکتے ہیں۔مقدرات نکالنے یا اپنی طرف سے ایزادیاں کرنے کی اس میں کوشش نہیں کی گئی اور یہی حضرت مولوی صاحب کا امتیاز تھا۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے لکھنا بھی (خط) کسی سے نہیں سیکھا۔اور قرآن شریف پر بھی خود ہی تدبر کیا ہے۔کسی استاد سے رسمی طور پر تفسیر نہیں پڑھی ہیں (۱۰) حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ خلافت کے مرتبہ اور امام کے عالی مقام کو خوب سمجھتے تھے اور کسی صورت میں بھی حضرت خلیفتہ اسیح پر تقدم نہیں کرتے تھے۔یہ مترجم حمائل شریف ۲۰ / دسمبر ۱۹۲۶ء کو شائع ہوئی ” عرض حال میں ناشر نے لکھا ہے۔مدت سے میں محسوس کر رہا تھا کہ جماعت احمدیہ کو ایک مستند اردو ترجمہ کی اشد ضرورت ہے۔پس میں نے سلسلہ احمدیہ کے ممتاز اور جلیل القدر، محقق ، علوم ظاہری و باطنی سے باخبر ، عالم باعمل، فاضل بے بدل عمدة المتكلمين ، زبدة العارفین ، رئیس المفسرین ، حضرت مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مدظلہ العالی کو ہی اس کار خیر اور عظیم الشان کام کی انجام دہی کے لئے بہترین اہل پایا۔اس عمر میں باوجود سلسلہ احمدیہ کے مہن بالشان کاموں میں مصروف ہونے کے انہوں نے بفضلہ تعالیٰ اس کام کو بہت خوبی سے حد تکمیل تک پہنچایا ہے۔حضرت مولوی صاحب کا اسم گرامی ہی کافی دلیل ہے کہ مترجم حمائل کن خوبیوں کی مالک ہے۔۔تفسیری نوٹ بھی شایقین کی خاطر درج کئے گئے ہیں۔“ حضرت مولوی صاحب نے ذیل کا دیباچہ رقم فرمایا جو اس ترجمہ کی خوبیوں کی وضاحت کرتا ہے۔اس وقت عام طور پر دو قسم کے قرآن مجید کے ترجمے ملتے ہیں۔اول تحت الفاظ جن میں الفاظ عربیہ کا ترجمہ دوسری زبان میں کیا گیا ہے مگر اس دوسری زبان کی ترکیب اور ساخت کو ترک کر کے عربی ترکیب اور ساخت اختیار کی گئی ہے یا بلفظ دیگر الفاظ تو اردو فارسی وغیرہ ہیں مگر ڈھانچہ اور قالب عربی ہے۔اور یہی وہ گلابی اردو ہے جس کا آج کل بجا طور پر تمسخر اڑایا جاتا ہے کیونکہ جب بھی الفاظ ایک زبان کے ہوں اور ڈھانچہ اور قالب دوسری زبان کا۔اس کا مطلب نہ اس زبان والے سمجھیں گے کہ جس کے الفاظ ہیں اور نہ اس زبان والے کہ جس کا ڈھانچہ ہے۔