اصحاب احمد (جلد 5) — Page 525
۵۳۰ جسمانی لحاظ سے بھی پہلوان سے کم نہ تھے اور اس زمانہ میں ریاستوں میں صرف ”جی حضوری یا مردہ بدست زندہ قسم کے لوگ ہی کام کر سکتے تھے۔اس لئے آپ کے افسروں کا ناک میں دم آگیا۔ان کی خود داری اور عزت نفس کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ ان کے ایس۔ڈی۔اونے ان کے نام ایک خط بھیجا اور لفافہ پر صرف حمید الدین ضلع دار نہر لکھ کر اپنے اردلی کے ہاتھ بھیجا تو آپ نے لفافہ اپنے ہاتھ میں لیتے ہی پیغام بر سے پوچھا کہ یہ کس نے لکھا ہے؟ اس نے جواب دیا۔”صاحب بہادر نے“ آپ نے لفافہ واپس اس کے ہاتھ دے دیا اور کہا کہ جاؤ۔لے جاؤ اسے اور جس کا نام حمید الدین ہے اس کو دے دو! میرا نام حمیدالدین نہیں۔میرا نام محمد حمید الدین ہے۔“ آپ کا طرہ امتیاز اپنے مفوضہ کام کو نہایت توجہ، محنت، دیانتداری اور جلد سے جلد ادا کرنا ہوا کرتا تھا۔چاپلوسی یا مداہنت یا کمزور دلی آپ کے پاس بھی نہ پھٹکی تھی۔اس لئے آپ ضلعداری سے استعفاء دے کر ۱۹۲۶ء میں قادیان آگئے۔اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میں بطور کلرک کام کرتے رہے۔تین چار سال تک وہاں کام کرنے کے بعد آپ کا تبادلہ دفتر بہشتی مقبرہ میں ہو گیا۔ہمارے حضرت مولوی صاحب سیکرٹری مقبرہ بہشتی تھے۔ہمارا بھائی ایک عجیب طبیعت و ہمت کا مالک تھا۔جس کام کو عام کلرک تین دن میں کرتے ہیں۔وہ تین گھنٹہ میں کر دیتے تھے۔اور اپنی معیشت کے لئے کسی کام کے کرنے کو عار نہیں سمجھتے تھے۔اس لئے کسی وقت بھی افسر کی کسی رعایت کے طالب ہونے یا خوشامدی بننے کا سوال ان کے لئے پیدا نہیں ہوتا تھا وہ کہتے تھے کہ میں وہی کام کروں گا جس کا کرنا میرے ذمہ ہوگا۔کسی دوسرے کام کا کرنا میرا فرض نہیں۔اور یہ بات بھی عجیب ہے کہ آپ نے میٹرک کے بعد منشی فاضل، اور منشی فاضل کے بعد ایف۔اے اور پھر بی۔اے اور اس کے بعد علی گڑھ یو نیورسٹی سے بی۔ٹی کا امتحان بھی اپنے ایک افسر صاحب سے ناراض ہو کر ہی کیا تھا۔۱۹۲۶ء سے ۱۹۳۸ ء تک ( یعنی جب تک میں قادیان میں تھا ) کبھی انہیں یہ خیال بھی نہیں آیا تھا کہ بی۔اے وغیرہ کے امتحانات کوئی چیز ہیں جن کے بغیر دنیا کے کام نہیں چل سکتے یا ان سے لیاقت میں زیادتی پیدا ہو جاتی ہے اس لئے یہ امتحان پاس کر لینے چاہئیں۔جب برادرم محمد حمید الدین صاحب حضرت مولوی صاحب کے ماتحت کام کرنے لگے تو آپ ان کے کام اور لیاقت کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے ادھر ہمارے بھائی صاحب کے اندر بھی حضرت مولوی صاحب کی صحبت سے جن کے چہرہ سے شرافت و نجابت ٹپکتی معلوم ہوا کرتی تھی۔وہ انقلاب آیا کہ وہ پہلامنشی محمد حمید الدین نہ رہا اور طبیعت کے اندر جذبہ انکساری اور تواضع اللہ پیدا ہو گیا۔اس زمانہ میں انہوں نے (جبکہ صدر انجمن احمدیہ کی مالی حالت بہت خراب ہو چکی تھی ) صدر انجمن احمدیہ کی جائیدادوں کو یکجا کرنے اور قادیان میں ریتی چھلہ