اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 524 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 524

۵۲۹ سے منظوری لے کر دس روپیہ ماہوار الاؤنس پر بطور پارٹ ٹائم کلرک رکھ لیا اور اسی طرح مستقل دار الافتاء کی بنیاد پڑ گئی۔اللہ تعالیٰ بھی بہت رحیم و کریم و شکور ہے اور اپنے بندوں کی سچی محنت اور قربانی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔اس لئے اب ہمارے وہی دوست اللہ تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمد یہ پاکستان میں ایک نظارت میں ہیڈ کلرک کی اچھی اسامی پر اور معقول مشاہرہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ دل سے حضرت مولوی صاحب کی ترقی مدارج کے لئے ضرور بالضرور دعا کرتے ہوں گے۔وھـــل جـزاء الاحسان الا الاحسان (ب) میرے خالہ زاد بھائی منشی محمد حمید الدین صاحب ( بی۔اے۔بی۔ٹی ) مرحوم ومغفور نے اپنے بچپن کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد سعادت مہد میں، پھر خلافت اولی کے ایام میں بھی تا اوائل خلافت ثانیہ اپنے والدین محترم کے ہمراہ قادیان میں پرورش پائی تھی اور تعلیم الاسلام ہائی سکول سے ہے میٹرک کا امتحان پاس کر لینے کے بعد نیز مختلف علوم وفنون ضرور یہ (سکنیلری ٹیلیگرافی۔ٹائپنگ۔نقشہ نویسی اوور سیری وغیرہ) سیکھ کر ریاست بہاولپور میں ضلعدار نہر لگ گئے تھے۔چونکہ خوددار اور دلیر بہت تھے۔اور یہاں یہ ذکر بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ حیفا ( فلسطین) میں انگر یز پادریوں کا ایک ہائی سکول تھا اس سکول کے سٹاف کا یہ فرض تھا کہ تعطیلات موسم گرما میں ( جو عموماً وہاں تین ماہ کی ہوتی ہیں ) اپنی اعلیٰ جماعتوں کے طلباء کے لئے مختلف کمپنیوں اور حکومت کے ادروں میں تین ماہ کے لئے عارضی کام تلاش کر کے انہیں اچھے الاؤنسوں پر لگوائیں تا اس طرح جہاں طلباء کو عملی طور پر کام کا تجربہ ہو اور مالی طور پر بھی ان کے والدین کو سہولت ہو سکے اور طلباء اپنی تعلیم کو اپنے والدین پر غیر معمولی بوجھ ڈالے بغیر جاری رکھ سکیں۔اور میں نے دیکھا کہ حکومت فلسطین ( جو اسرائیل کے نام سے موسوم ہے ) غیر معمولی یا اتفاقی کام ( مثلا مردم شماری، راشن کارڈوں یا شناختی کارڈوں کا اجراء فہرست ہائے رائے دہندگان کی تیاری وغیرہ ) عام طور پر مدارس کی تعطیلات موسم گرما میں ہی کیا کرتی تھی۔تا مدارس کی اعلیٰ جماعتوں کے طلباء کی مالی امداد کے علاوہ حکومت کا کام بھی بغیر مستقل عملہ رکھنے کے ( جو خزانہ پر غیر معمولی بوجھ بن جاتا ہے اور ٹیکسوں میں اضافہ کا موجب ہو جاتا ہے ) اور سالوں کام جاری رکھنے کی بجائے فوراً دو تین ماہ کے اندر ہو جائے ممکن ہے یوروپین ممالک میں بھی یہی رواج ہو۔واللہ اعلم وكلمة الحكمة ضالة المؤمن اخذها حيث وجدها ( محمد شريف) والدین بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں ان کے اسماء با بو فضل الدین صاحب اوورسیر و مہتاب بی بی صاحبه ( بنت حضرت مولوی وزیر الدین صاحب یکے از ۳۱۳ صحابہ ) ہیں۔