اصحاب احمد (جلد 5) — Page 523
۵۲۸ کہ مولوی فاضل کے معنی ( یو نیورسٹی کی زبان میں) ایسا شخص ہے جو عربی زبان کا فاضل ہو مگر اس امتحان یا ڈگری کا معشیت یعنی گزر اوقات کے کام تجارت، صنعت و حرفت یا حکومت کے کسی دفتر میں ملازمت ( مزدوری) یا زراعت وغیرہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔تجارت کے لئے رأس المال اور خرید وفروخت کے تجربہ کی ضرورت ہے۔صنعت و حرفت کا خواہ کوئی کام بھی ہو۔صنعت و حرفت کے استادوں یعنی سناروں ، لوہاروں، مستریوں ، ترکھانوں ، معماروں، گلکاروں ، بافندوں اور پاپوش سازوں وغیرہ سے سیکھنے سے ہی آسکتا ہے۔سرکاری ملازمت کے لئے انگریزی حساب و ہندسہ وغیرہ آنا چاہئے۔عام مزدوری کرنے کے لئے جسم طاقتور ہونا چاہئے۔اس لئے مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد یا تو مولوی فاضل کی دوڑ مسجد کی طرف ہوگی یا اگر کسی پسماندہ علاقہ میں کوئی غیر متعصب اسلامیہ سکول یا ڈسٹرکٹ بورڈ سکول وغیرہ باقی رہ گیا ہو۔اور اس میں کسی عربی پڑھانے والے کی ضرورت شاذ و نادر کے طور پر پڑ جائے اور مولوی فاضل صاحب خوش قسمتی سے اور ٹی بھی پاس کر چکے ہوں ( یو نیورسٹی کی طرف سے یہ کلاس بھی عرصہ ہوا بند کر دی گئی تھی ) تو اس میں نہایت معمولی تنخواہ پر کام کر سکتا ہے احمد یہ مساجد میں تو کسی مولوی صاحب کی خواہ مولوی فاضل ہو یا غیر مولوی فاضل امامت کے لئے ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ہمارے ہاں امامت مسجد کوئی پیشہ نہیں۔مقتدی جس کو چاہیں اپنا امام الصلوۃ بنالیں غیر احمدی مساجد میں احمدی امام کے لئے جگہ کہاں؟ زراعت پر بھی متحدہ ہندوستان میں صرف دلیش ذات کی اجارہ داری یا ملکیت تھی۔جس کا باپ دادا یا لکڑ دادا آج سے ایک صدی قبل ۱۸۶۴ ء کے انگریزی بندوبست میں بطور زمیندار درج نہ ہوتا وہ زرعی زمین خرید نہیں سکتا تھا اور اگر کسی طرح خریدنے میں کامیاب بھی ہو جا تا تو سرکاری کاغذات میں اس کے نام وہ زرعی لگ نہیں سکتی تھی اور زمین تو کیا ملنی ہے ہر وقت اپنا محنت سے کمایا ہوا روپیہ بھی آنا فانا ضائع ہو جانے کا ڈر لاحق رہتا تھا۔ایسے حالات میں یہ مولوی فاضل اصحاب کو جن کے والدین بہت بڑے دولت مندوں میں سے نہ ہوں جو مشکلات پیش آسکتی ہیں وہ عیاں ہیں۔جب ہمارے حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ فی الحال ان کے عزیز شاگرد کوگز راوقات کے لئے کوئی کام ملنا مشکل ہے اور او۔ٹی کلاس بھی بند ہے تو آپ نے انہیں دار الافتاء میں صدر انجمن احمد یہ * مَوْلَوِی فَاضِل کے معنی عربی زبان کے لحاظ سے ” خدا رسیدہ بزرگ“ کے ہیں۔یا ”خدا کا برگزیدہ بندہ عربی زبان کا جاننا یا نہ جانا ضروری نہیں اور نہ خدا رسیدہ ہونے کے لئے کسی یونیورٹی کا امتحان پاس کرنا ضروری ہے اور غالبا یہی وجہ ہے کہ اب پنجاب یونیورسٹی نے اس ڈگری کا نام فَاضِلُ الْعَربيّة رکھ دیا ہے۔(محمد شریف)