اصحاب احمد (جلد 5) — Page 500
کہ آپ درس دیا کریں۔اور میری خوش قسمتی آپ نے پہلے پارہ سے درس شروع فرمایا۔آپ کی آواز بہت بلند نہ تھی اور چونکہ آپ ضلع ہزارہ کے پہاڑی علاقہ کے رہنے والے تھے۔لہجہ خالص پنجابی نہ تھا۔آپ اردو بولتے تھے لیکن بہت دفعہ تلفظ نامانوس معلوم ہوتا تھا۔فن قرآت میں مہارت تامہ حاصل تھی۔حروف کے تحارج کا اتنا خیال تھا کہ وہ ارادہ نہیں بلکہ عادتاً حروف کو اپنے مخارج سے نکالتے تھے۔اور اصل چیز علم قرآن ہے۔میں پیدائشی احمدی ہوں۔قرآن کریم کے علوم کا شوق گھر سے لے کر آیا تھا یہی وجہ تھی کہ عصر کے درس میں شامل ہو کر مغرب بھی وہیں پڑھتا اور پھر حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کے درس میں بھی شامل ہوتا۔اور پھر واپس بورڈنگ ہاؤس جاتا۔آپ چونکہ علوم عقیلہ میں مہارت خاص رکھتے تھے اور حافظہ بے پناہ تیز تھا اور قرآن کریم پر بہت ہی زیادہ محنت کی ہوتی تھی۔آپ کا قرآن کریم کی تفسیر کا علم بلا مبالغہ بے پایاں تھا۔ہر آیت کی تفسیر حضرت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان فرمودہ تفسیر اور صحابہ کی تفسیر سے شروع فرماتے۔اور تمام نامور مفسرین کے نقطہ ہائے نگاہ کو بیان کرتے جاتے اور ان پر ضروری تنقید بھی فرماتے جاتے۔یہاں تک کہ حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات تک لے آتے۔پھر عاشق قرآن اپنے استاد حضرت علامہ نورالدین رضی اللہ عنہ کا نقطہ نگاہ بیان فرماتے۔اور اس پر بس نہ کرتے بلکہ اپنا نقطہ نگاہ بھی نہایت دلیری سے بیان کرتے فرماتے اور پھر حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ المسیح الثانی کا نقطہ نگاہ بھی بیان فرماتے۔ظاہر ہے کہ بات لمبی ہو جاتی۔والا معاملہ ہو جاتا۔اگلے دن سیاق وسباق کلام کو سمجھنے کے لئے کسی حد تک دوہرانا بھی پڑتا۔اس طرح تفسیر کی رفتار بہت سست رہتی لیکن تفصیل میں مزہ لینے والوں کوضرور مزہ آ جاتا۔اور کیفیت۔لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم۔کی ہو جاتی۔حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے متعلق ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے آپ بھی یقیناً قرآن کریم کے علوم کے بحر میں بہت ہی عمیق غوطہ زنی فرماتے تھے وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يشَاء مجھے خوش قسمتی سے میٹرک پاس کرنے سے پہلے یا غالبا معاً اس کے بعد حضرت مولانا کی تحریر فرمودہ ساڑھے چھ سپاروں کی تفسیر موسومہ بہ تفسیر سروری مل گئی تھی اور میں نے اپنی صلاحیت و استعداد کے مطابق اس سے استفادہ کیا۔مجھے تسلیم ہے کہ اپنی علمی فرمائیگی کے باعث اس سے پورا فائدہ نہ اٹھا سکا۔لیکن وہ ایک نہایت بے نظیر تفسیر ہے۔کاش اس زمانہ کے سیکرٹری صدرانجمن احمد یہ قادیان اپنے مصالح کے ماتحت رسالہ تعلیم القرآن کو بند نہ کرتے اور سارے قرآن کریم کی تفسیر مکمل ہو جاتی۔مجھے یقین ہے کہ وہ ایک عظیم الشان