اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 499 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 499

۵۰۴ کا ایک وفد زیر امارت حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ پہنچا۔جس کے دیگر ممبران مندرجہ ذیل تھے۔ایک جوان عمر پاک رو پاک دل پاک دماغ حضرت میر محد الخلق صاحب رضی اللہ عنہ، حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی اور حضرت مولوی فضل دین صاحب پلیڈر مشیر قانونی تھے۔جب پادری مذکور نے اپنی تقریر ختم کی اور اپنے منطق و فلسفہ کی ساری نمائش کر چکا تو حضرت مولانا مرحوم کی باری آئی۔پادری مذکور کو علم نہ تھا کہ حضرت مولانا اس علم کے صرف فاضل ہی نہ تھے بلکہ فاضل گر تھے۔اور اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ مولوی فاضل کلاس کو آپ یہ مضمون پڑھاتے رہے تھے۔آپ کے اس علم کی فضیلت کے اس زمانہ کے بڑے سے بڑے دعویدار حتی کہ مولوی عبد اللہ ٹونکی جیسے لوگ بھی قائل تھے۔مولانا نے پادری مذکور کے دجل کا جامہ کچھ اس طرح پارہ پارہ کیا اور اس کی علوم منطق و فلسفہ سے جہالت کو اتنا واضح کیا کہ سامعین حیران ہو گئے۔حضرت نے بتایا کہ پادری مذکور صرف اصطلاحات از بر کئے ہوئے ہے ان کے معنی اور تعریفات کو بھی نہیں جانتا۔آپ کے انداز بیان میں وقار اور سادگی تھی۔میں اس وقت ابھی پندرہ سال کے قریب عمر کا تھا۔بڑے علمی دقائق کو نہ سمجھ سکتا تھا لیکن یہ صاف پتہ لگ رہا تھا کہ پادری کا دل اس علمی پردہ درری پر گھٹ رہا تھا۔ابھی اس ضرب سے پادری کو ہوش نہ آیا تھا کہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے اس کی جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ۲۸ یا ۲۵ عربی الفاظ کی غلطیاں سٹیج پر کھڑے ہوکر سنا دیں۔اب تو اسے سر چھپانے کو جگہ نہ ماتی تھی۔اور پسینے پر پسینے آتے تھے لیکن ابھی ایک فولاد باز جوان عمر کی ضرب کلیمی باقی تھی۔حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ عنہ ابھی اپنے عنفوانِ شباب میں تھے۔آپ کا نہایت خوبصورت و تبسم چہرہ اور اس سے بھی زیادہ خوبصورت دل آویز کلام دلوں میں گھر کرتا جارہا تھا۔آپ نے تثلیث وکفارہ کے تارو پود کو اپنے مخصوص نہایت دل نشین انداز میں اس طرح بکھیرا اور اپنے دلائل کو اس طرح شمار کیا کہ لوگ نئے علوم سے اپنی جھولیاں بھر کر گھروں کو لوٹے۔کوئی دل نہ تھا جو جذبات شکر و امتنان سے لبریز نہ تھا۔میں اس کی تفصیل حضرت میر صاحب مرحوم کے مضمون میں بیان کروں گا۔انشاء اللہ۔میں نے حضرت مولانا کے متعلق اس بچپن میں ہی یہ محسوس کیا کہ آپ خود داری ، عزت نفس اور وقار کا ایک پہاڑ ہیں۔آپ کے تجر علمی کا اندازہ کرنا میری استعداد سے بہت ہی بالا امر تھا۔میں ۱۹۱۵ء میں قادیان تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل ہو گیا۔اسی زمانہ میں حضرت فضل عمر ایدہ اللہ الودود خود درس قرآن بعد عصر دیا کرتے تھے لیکن اپنی مصروفیات اور صحت کے مدنظر جلد ہی حضرت مولانا کو ارشاد فرمایا