اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 501 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 501

علمی چیز ہوتی۔لیکن اب مولوی محمد علی صاحب بھی فوت ہو چکے اور مولا نا بھی۔ماضی کے اس تلخ واقعہ کی تفصیل میں پڑ نا صرف تلخی ہی کا موجب ہوگا۔حضرت مولانا کو جو مقام تفسیر میں حاصل تھا۔اس کا اندازہ کرنے کے لئے صرف ایک آیت کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔میں نے بچپن میں حضرت خلیفتہ اسیح الاول جیسے بے نظیر عالم و مفسر قرآن کا پہلے پارہ کا بڑی تقطیع پر شائع شدہ ترجمہ دیکھا اس میں وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادْرَهُ تُمْ فيها ۳۴ پر حضور نے لکھا ہوا تھا اس آیت کے معنی ابھی تک مجھ پر نہیں کھلے۔یہ علامہ نورالدین کی شان کو ظاہر کرنے والی۔ایک نہایت ہی دلربا بات تھی۔میں نے جب تفسیر سروری پڑھی تو اس میں نفساً سے مراد حضرت عیسی علیہ السلام لی گئی تھی اور نہایت ہی لطیف دلائل اس کے ثبوت میں دئے گئے تھے۔میرے نزدیک محبت قرآن کا یہ بھی ایک نہایت پیارا رنگ تھا اور آج جماعت احمد یہ آیت مذکورہ بالا کے یہی معنی لیتی ہے۔طالب علمی کے زمانہ میں میری چھٹیاں اکثر و بیشتر قادیان میں ہی گزرا کرتی تھیں اس کے علاوہ بھی جو وقت فراغت کا ملتا تھا۔قادیان میں ہی گزرتا۔اس عرصہ میں کوشش یہ ہوتی کہ نمازیں مسجد مبارک میں ادا ہوں۔مجھے ہمیشہ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی کہ حضرت مرحوم اپنی ضعیف العمری کے باوجود وقت کی نہایت درجہ پابندی کے ساتھ گرمی ہو یا سردی صبح کی نماز سے لے کر عشاء کی نماز تک ہر وقت اپنی مقررہ جگہ پر موجود ہوتے۔میں نہیں سمجھتا کہ کوئی جوان ہمت نوجوان بھی اس سے زیادہ التزام کے ساتھ نمازوں میں اس طرح حاضر رہ سکتا ہے۔حقوق اللہ کی ادائیگی کی یہ ایک نادر مثال ہے۔آپ نے سینکڑوں خطبات نکاح پڑھے اور ان میں نہایت لطیف علمی اور عملی نکات بیان فرمائے آپ سلسلہ احمدیہ کے مفتی تھے۔کئی مرتبہ بورڈ قضاء میں جس کا کچھ عرصہ میں بھی ممبر رہا۔آپ بحیثیت مفتی تشریف لاتے تو مسائل کے بیان میں صرف وسعت نظر اور روشن دماغی ہی ظاہر نہ ہوتی تھی بلکہ اسرار شریعت اس طرح بیان فرماتے کہ دل و دماغ روشن ہو جاتا۔آپ کی جواں ہمتی نہایت درجہ قابل دادتھی۔۴۵ ۱۹۴۴ء کی بات ہے حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ڈلہوزی میں اپنی عالی شان کوٹھی واقعہ بکر وٹہ میں قیام فرما تھے اور حضور نے حضرت مولانا کو بھی اپنے پاس بلوایا ہوا تھا کہ واقفین زندگی نے بیلون میں جو کوٹھی مذکورہ سے قریباً تین چار میل اترائی میں ہے۔ایک جلسہ منعقد کیا۔میں نے حضرت مولانا کو دیکھا کہ آپ بھی یہ ساری اترائی اتر کر آئے اور پھر شام کو اتنی چڑھائی اس بڑھاپے میں چڑھ کر واپس تشریف لے گئے۔اور اس طرح اپنے مبارک وجود سے جلسہ کو برکت بخشی۔میں و ہم بھی نہ کر سکتا کہ حضرت مولانا بھی ایک معمولی سے جلسہ کے لئے اتنی تکلیف برداشت کر سکیں گے۔