اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 191 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 191

۱۹۵ دہلی کے لیڈروں کی دعوت پر جناب مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب۔جناب مفتی محمد صادق صاحب اور جناب قاضی عبد اللہ صاحب اس میٹنگ میں شامل ہوئے جو ہندوستان کی تمام اقوام کے لیڈروں کی ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں منعقد ہو رہی تھی۔مولوی صاحب اور مفتی صاحب دونوں سجکٹس کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔۱۲۲ اس وقت گاندھی جی نے ہندو مسلم فسادات میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تین ہفتے کا برت رکھا تھا۔صدر مجلس پنڈت موتی لال نہرو نے ایک تجویز میں جو متفقہ طور پر منظور ہوئی گاندھی جی کے برت پر فکر مندی کا اظہار کیا اور ضمیر ، عبادت اور قبول مذہب کی آزادی کو تسلیم کیا۔مفتی کفایت اللہ صاحب نے قتل مرتد کی حمایت کی جس کی تردید مولانا ابوالکلام آزاد و غیرہ نے کی۔مفتی موصوف کی باتوں سے غیر مسلموں پر اسلام کے متعلق بہت برا اثر پڑا۔۱۲۳ ۴- مالی خدمت آپ موصی تھے۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل ہوئے اور دیگر کئی مواقع پر اسلام کے لئے مالی خدمات میں آپ نے شمولیت کی توفیق پائی۔بعض مالی قربانیوں کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے :- (۱) چنده مدرسه تعلیم الاسلام مرسله از پشاور ایک روپیہ ساڑھے آٹھ آنے۔۱۲۴ (۲) ۳۱ مارچ اور یکم اپریل ۱۹۰۱ء کو انجمن اشاعتِ اسلام سے متعلق اجلاسات منعقد ہوئے اور ریویو آف ریچر کے فروخت حصص کے بارے میں سابقہ روئداد سنائی گئی اور قواعد تجویز ہوئے۔خرید حصص کی اطلاع دینے والے احباب میں ”مولوی سید سرور شاہ صاحب کا نام بھی ایک حصہ کی خریداری میں موجود ہے۔۱۲۵ ایک تو مولوی لکھا ہے دوسرے آپ سے قبل ایک اور آپ کے بعد دو افراد پشاور کے ہیں۔گویا یہ نام بھی پشاور کا ہے اور آپ پشاور میں پروفیسر تھے۔آپ کے ہمنام رشتہ دار نہ مولوی کہلاتے تھے نہ پشاور میں قیام رکھتے تھے۔(۳) دو آ نے چندہ برائے امداد داخلہ امتحان طلباء کالج۔۱۲۶ (۴) آپ کی وصیت نمبر ۳۰۳ ہے۔آپ نے سے جنوری ۱۹۰۸ءکو جائیداد کی اور ۱۹۴۲ء میں آمد کی وصیت کی تھی۔(۵) ارتداد ملکانہ کے تعلق میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مشاورت ۱۹۲۳ء میں چندہ کا اعلان فرمایا۔اولین پیش کش جنرل اوصاف علی خانصاحب مالیر کوٹلوی کی طرف سے ہوئی جنہوں نے پانصد روپیہ کا