اصحاب احمد (جلد 5) — Page 192
۱۹۶ ۵- تعلیمی خدمات اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ آپ کے علوم میں کمال و تبحر کے باعث طالبعلمی میں دارالعلوم دیو بند اور سہارنپور اور ایبٹ آباد میں اور پشاور میں علماء آپ کا سکہ مان چکے تھے۔مخالف علماء یا رائے مباحثہ و مکالمہ نہ پاتے تھے اور پشاور کے مشن کا چوٹی کا پادری تاب مقاومت نہ رکھتے ہوئے دماغی توازن کھو بیٹھا اور اس کا خاص مقصدِ سفر خاک وخون میں غلطان نظر آنے لگا اور اس کے سارے کئے کرائے پر آپ کی وجہ سے پانی پھر گیا۔آپ کے والدِ ماجد نے آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے میں فخر و انبساط محسوس کیا۔بقیہ حاشیہ:- چیک پیش کیا۔کل پیشکش دس ہزار کی ہوئی۔مولوی صاحب نے ایک صد روپیہ کی پیشکش کی۔۱۲۷ گویا کل پیشکش کا سوواں حصہ آپ کی طرف سے تھا۔(۶) ۱۹۲۴ء میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے چالیس ہزار روپیہ کی تحریک چندہ خاص کی تھی۔یہ تحریک ایک ماہ کی تنخواہ کی ایک تہائی کی تھی۔آپ نے تینتیس روپے ساڑھے پانچ آنے دیئے۔گویا آپ کا مشاہرہ یک صد روپیہ تھا۔اس فہرست میں اکہتر کارکنان صدر انجمن کی رقوم درج ہیں۔ان میں سے صرف ایک کا چندہ آپ سے زیادہ اور تین کا آپ کے برابر ہے۔۱۲۸ (۷) سلسلہ کی مالی مشکلات کے پیش نظر حضور کی طرف سے ایک لاکھ روپے چندہ خاص کی تحریک ہوئی تھی۔جس میں تمام کارکنان نے ایک ایک ماہ کی تنخواہ پیش کر دی تھی۔۱۲۹ (۸) ۱۹۳۱ء میں حضور کی طرف سے تحریک کی گئی کہ احباب ایک ایک ماہ کی آمد چندہ خاص کے طور پر دیں۔۱۴۴ مولوی صاحب کا چندہ ایک صد سوا میں روپے دیگر کارکنان کی طرح یکمشت ادا ہوا۔۱۳۰ (۹) تحریک وقف جائیداد پر آپ نے ساری جائیداد وقف کر دی۔۱۳۱ اس وقت حضور کی طرف سے یہ اعلان تھا کہ صرف پیشکش کی جائے۔جب بھی اسلام کے لئے ضرورت ہوگی کچھ فیصدی کا مطالبہ کیا جائے گا۔(۱۰) آپ تحریک جدید کے مجاہدین میں شامل تھے۔آپ تحریک کے چودھویں سال عالم جاودانی کو سدھار گئے۔”حضرت مفتی سید محمد سرور شاہ صاحب “ نے چار صد بیاسی روپے کی رقم اس تحریک میں ادا کی۔۱۳۲ (11) ذیل کے دواندرا جات بابت رسید زر موجود ہیں لیکن وہاں سکونت مرقوم نہیں اس لئے یہ علم نہیں ہوتا کہ آپ کے چندہ کا ذکر ہے یا آپ کے پھوپھی زاد بھائی کا۔،، 66 (الف) نمبر ۱۹۲۔سید سرور شاہ صاحب ساڑھے چار روپے ۱۳۳ 66 (ب) ” نمبر ۸۳۱۔سید سرور شاہ صاحب ایک روپیہ۔۱۳۴