اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 190 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 190

۱۹۴ یہ بزرگ اللہ تعالیٰ ان پر ہزاروں رحمتیں نازل فرمائے ) بیوی بچے بھی رکھتے تھے۔ان کے حقوق بھی ادا کرتے تھے۔اپنے مفوضہ کام بھی سرانجام دیتے تھے۔دوستوں کی مجلسوں میں بھی بیٹھتے تھے۔حسب ضرورت بازار سے سودا سلف بھی لاتے تھے۔بعض اوقات معصوم تفریحوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔الغرض ” دست با کار“ کا ایک نہایت عمدہ نمونہ تھے مگر باجود اس کے وہ مسجدوں کی رونق بھی تھے۔اور ” دل بایار کی ایسی دلکش تصویر پیش کرتے تھے کہ اب تک ان کی یاد سے روح سرور حاصل کرتی اور زبان سے بے اختیار دعا نکلتی ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ ہم سب کے آقا اور سرور حضرت مسیح موعود عیہ السلام کا اپنا یہ حال تھا کہ آپ کی جوانی میں جب ایک شخص نے ہمارے دادا سے دریافت کیا کہ آپ کا ایک لڑکا تو اکثر نظر آتا ہے مگر کہتے ہیں کہ آپ کا ایک اور لڑکا بھی ہے وہ کہاں رہتا ہے۔دادا نے فرمایا : - اس کا کیا پوچھتے ہو؟ مسجد میں دیکھو کسی صف میں لپٹا پڑا ہوگا۔‘ ۱۱۸ - شرکت مرکزی و فو دو اجلاس بابت ہندو مسلم اتحاد ۷ دسمبر ۱۹۱۹ء کوسرایڈورڈمیکیکن لفٹنٹ گورنر پنجاب کو اور۲۳ جون ۱۹۲۱ء کولارڈ ریڈنگ وائسرائے ہندکو اور ۸/ نومبر ۱۹۲۳ء کو گورنر پنجاب کو سپاسنامے اور شہزادہ ویلیز کو حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا مؤلفہ تحفه شهزاده ویلز بذریعہ حکومت ۲۷ فروری ۱۹۲۲ء کو پیش کرنے والے احمدیہ وفود میں آپ بھی شامل تھے۔جیو الفضل ۱۹-۱۲-۲۲ (ص ۱۱) یہ وفدا کا ون افراد پر مشتمل تھا سپاسنامہ میں کہا گیا تھا کہ گوہم ترکی کے خلیفہ کو خلیفہ نہیں مانتے لیکن ہم مسلمانوں کے اس مطالبہ کے ہمنوا ہیں کہ ترکوں سے معاملہ کرتے وقت مسلمانوں کے احساسات کا لحاظ رکھا جائے۔بروئے الفضل ۲۱-۷-۴ (ص۳) وائسرائے کو تمہیں افراد پر مشتمل وفد شملہ میں ملاقی ہوا۔”مولوی سید سرور شاہ صاحب مدرس اول مدرسہ احمدیہ اس میں شامل تھے۔( ریویو آف ریلیجنز انگریزی بابت جون ۱۹۲۱ء میں بھی اس کا ذکر ہے ) شہزادہ والے وفد میں آپ کا اسم گرامی ”مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب پر نسپل احمد یہ دینی کالج قادیان مرقوم ہے۔۱۱۹ ۲۱ جنوری کو بعد نماز فجر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کا مسودہ سنانا تھا۔مسجد مبارک میں بیرونی محلوں کے احباب بھی جمع تھے بلکہ کثرت کے باعث بہت سے احباب نے مسجد مبارک کی چھت پر نماز ادا کی اور مضمون سنانے سے قبل نو علماء بشمول مولوی صاحب ) کو اور انگلستان کے دونوں سابق مبلغوں کو مشورہ کے لئے آگے بُلایا۔۱۲۰ ۲۳-۱۱-۸ کو گورنر پنجاب سرایڈورڈ میکلگین سے وفد نے درخواست کی کہ قادیان میں تار گھر کھولا جائے اور قادیان بٹالہ روڈ کو پختہ کیا جاوے۔آپ اس وفد میں بطور سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ قادیان شامل تھے۔۱۲۱