اصحاب احمد (جلد 5) — Page 122
۱۲۶ رہے اور اپنی سخت محنت سے اپنے عزم کو ہمیشہ پورا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔طالب علمی کے زمانہ کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل نے ان کو حضرت امیر المؤمنین ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا پرائیویٹ سیکرٹری بنے کی توفیق دی اور سلسلہ کے دوسرے کاموں میں وہ تن من دھن سے مشغول رہے۔حضرت عرفانی صاحب کبیر کو ان سے بہت محبت تھی۔وہ ان کے کاموں کی نہ صرف ہمیشہ تعریف کرتے تھے بلکہ تعاون کا ہاتھ بھی بڑھاتے اور ہمیشہ نیک مشورے دیتے رہے اور اصحاب احمد کے مسودات کی صحت بھی فرماتے اور اس میں اپنا قیمتی مشورہ بھی دیتے۔میں پابندی سے اصحاب احمد پڑھتا ہوں۔ان کا یہ کام رہتی دنیا تک انشاء اللہ زندہ جاوید رہے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے تمام کارناموں کو قبول فرما کر ملک صاحب کو اجر عظیم بخشے اور مزید احمدیت کی خدمت کی توفیق دے۔میں نے اصحاب احمدکو ہر اعتبار سے مفید پایا تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اخویم مولوی دوست محمد صاحب شاہد کی تالیف تاریخ احمدیت حصہ سوم کے شائع ہونے پر آپ اظہار مسرت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: د شکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ تک کے واقعات آگئے۔مگر یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ حوالہ اصحاب احمد کا ذکر جگہ بہ جگہ ہے۔کتنا بڑا صدقہ جاریہ ہے جو آپ کے نامہ اعمال میں آ گیا۔تاریخ احمدیت میں آپ جگہ بہ جگہ ہیں۔“ (حصہ دوم وسوم اور حیات طیبہ تالیف اخویم شیخ عبد القادر صاحب میں پینسٹھ اور تذکر طبع ثانی میں اٹھارہ حوالے درج ہوئے ہیں ) مکرم سید بدرالدین صاحب معلّم وقف جدید بمقام سمولیہ ( علاقہ رانچی بہار تحریر کرتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو اس مبارک کام کی توفیق دے کر زندہ جاوید بنا دیا۔ذَالِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاء اللہ تعالیٰ احباب کی حسن ظنی کو مبدل بہ حقیقت کر دے۔آمین۔و ما ذلک علی الله بعزیز۔“ ۱۷- حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعتہائے پشاور ڈویژن نے تحریر فرمایا : - ( افسوس کہ آپ وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللہ تعالیٰ آپ کے مدارج بلند فرمائے آمین )