اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 8 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 8

اس زمانہ میں تعلیم کے لئے سکول و کالج نہ ہوتے تھے۔بلکہ مکتبی تعلیم کا سلسلہ ہوتا تھا۔اسی طریق پر والد صاحب نے تعلیم پائی اور زبان فارسی اور درسی کتب کی تکمیل کی۔فرماتے ہمارے ایک ہندو استاد تھے پیپل داس نامی۔اثنائے سبق میں بعض دفعہ ہندو مذہب اور اسلام کے متعلق ان سے بحث ہو جاتی۔اور وہ ہندو مذہب کے بارے میں دلائل دیتے اور ہم ان کی تردید کرتے۔آخر وہ بوجہ منصف مزاج ہونے کے ہمارے دلائل تسلیم کر لیتے اور کہتے کہ ریت کی دیوار کو کوئی کہاں تک سہارا دے سکتا ہے۔اس زمانہ میں استادوں کا نہایت ہی ادب و احترام کیا جاتا تھا۔حتی کہ والد صاحب کے ایک مسلمان استاد نعیم الدین تھے۔ان کے ہندو شاگرد ان کے لئے گوشت بطور تحفہ لایا کرتے تھے۔حالانکہ وہ شاگرد خود گوشت نہ کھاتے تھے۔فرماتے کہ جب ہم اپنا سبق ختم کر چکتے تو ہمارا استاد کسی شغل یا کھیل وغیرہ میں ہمیں مصروف کرایا کرتا تھا۔اس زمانہ میں گت کا سکھانا بھی استاد کا کام ہوتا تھا اور والد صاحب نے بھی اسے بطور ہنر سیکھا تھا۔ایک دفعہ دادا صاحب نے استاد پر اعتراض کیا کہ تم اپنے شاگردوں کے ساتھ کھیل میں بھی مصروف ہو جاتے ہو یہ وقار کے خلاف ہے تو اس نے جواب دیا۔نوجوانوں کو ادھر ادھر جانے سے روکنا حفظ اخلاق کے لئے ضروری ہے اور اس نیت سے میں انہیں سبق کے بعد بھی مصروف رکھتا ہوں تا کہ ان کے اخلاق میں کوئی انتشار نہ پیدا ہو۔ظاہر ہے کہ جہاں شاگر د استادوں کی اس قدر تعظیم کرتے تھے استاد بھی اپنے شاگردوں کے بچے ہمدرد اور دلی خیر خواہ تھے اور ان کے اخلاق کی نگہداشت علاوہ تعلیم و تعلم کے بدرجہ اولی کرتے تھے۔آج کل کی تعلیم میں یہ بات بہت کم مد نظر رہتی ہے۔آپ کی ذہانت غرضیکہ مکتبی تعلیم سے والد صاحب جب فارغ ہوئے تو سترہ سال کے قریب عمر تھی