اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 9 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 9

۹ فرماتے انہی ایام میں ایک مقدمہ کے سلسلہ میں تحصیلدار کی کچہری میں مجھے جانا پڑا، وہاں پر ایک تحریر کسی نے خط طغریٰ میں لکھ کر امتحانا پیش کی ہوئی تھی۔سب لوگ اس تحریر کے پڑھنے میں ناکام رہے۔میرا تازہ علم تھا میں نے تحصیلدار کے سامنے وہ تحریر جو خط طغریٰ میں تھی بالکل صحیح پڑھ دی جس سے لوگوں میں میری ذہانت کا بہت اثر ہوا۔اور تحصیلدار نے کہا آپ میری سررشتہ داری قبول کریں۔فرماتے میری والدہ نے ملازمت کی اجازت نہیں دی۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق کافی ہے۔کیونکہ ہمارا زمیندارہ اس زمانے میں معقول صورت میں تھا۔کپورتھلہ چلے آنا غرض تقریباً سترہ سال کی عمر میں اپنا وطن چھوڑ کر آپ کپورتھلہ آئے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے چا حافظ احمد اللہ صاحب قصبہ سلطان پور ریاست کپورتھلہ میں تحصیلدار تھے۔ان کے اولاد نہ تھی اور والد صاحب کو اپنے بیٹے کی طرح وہ محبوب جانتے تھے۔حافظ احمد اللہ صاحب بڑے بارعب اور اپنی قابلیت اور دیانت داری کی وجہ سے ریاست بھر میں بہت ممتاز اور نیک نام حاکم تھے۔ان کے دبدبے اور دیانت کے واقعات اب تک سلطان پور میں زبان زد تھے۔مقدمات کے فیصلے نہایت قابلیت سے کرتے۔گواس زمانہ میں قانون اور ضابطہ آج کل کی طرح نہ تھا لیکن ان کے فیصلوں سے ذہانت ، زور قلم اور بے لاگ انصاف پسندی عیاں ہوتی ہے دوران وکالت خود میں بعض مقدمات کے سلسلہ میں ان کے پرانے فیصلوں کے دیکھنے کا مجھے اتفاق ہوا۔دادا جان اور آپ کی وضعداری اور سیر چشمی حافظ احمد اللہ صاحب نے اپنی وفات سے قبل اپنی جائیداد جو بہت کثیر تھی والد صاحب کے حق میں لکھ دی تھی۔ان کی وفات کے بعد والد صاحب نے وہ تحریر شیخ محمد ابراہیم صاحب یعنی میرے دادا کو دکھائی۔لیکن دادا صاحب نے فرمایا کہ