اصحاب احمد (جلد 4) — Page 7
۷ فرماتے کہ جب تمہارے دادا کے فوت ہونے کا وقت قریب آیا تو انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔میں نے پوچھا آپ کیا دعا مانگ رہے ہیں فرمانے لگے کہ تم نے میری بڑی خدمت کی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ تمہیں بہت اولا ددے۔خدا کی شان ہے کہ والد صاحب کے تینوں بھائی بے اولا در ہے۔اور والد صاحب کی وفات کے وقت ان کے اولا دوا حفار پچیس نفوس تھے۔اور صرف والد صاحب کی شاخ ہی آگے چلی۔والد صاحب نے دو شادیاں کیں۔ایک محترمہ سیدہ بدر النساء صاحبہ سے۔ان کے والد میرٹھ کے تھے اور بالآخر مکہ شریف چلے گئے تھے۔سیدہ موصوفہ وفات پاچکی ہیں۔دوسری شادی بڑھانہ کے اقارب میں محترمہ بتول بیگم سے ہوئی۔اور وہ زندہ ہیں دونوں شادیوں سے اولاد ہوئی۔وطن آبائی وطن شہر مظفر نگر سے ہیں میل کے فاصلہ پر ایک قصبہ ہے بڑھانہ نامی جو ہمارا قدیمی وطن ہے۔لیکن دادا صاحب اور ان کے چچا فیض اللہ صاحب قصبہ باغپت ضلع میرٹھ ملازم تھے۔اور شیخ فیض اللہ صاحب باغپت میں تحصیلدار تھے۔والد صاحب کی پیدائش باغپت میں ہوئی اور اکثر تعلیم بھی وہیں پائی۔اس سے پیشتر دادا صاحب گجرات اور جالندھر میں منصرم رہے تھے اور بندوبست میں کام کرتے تھے۔یہاں پر یہ ذکر کر دینا مناسب ہے کہ صو بہ پنجاب میں جب ابتدائی بندو بست ہوئے تو بندو بست کے اکثر کارکن یوپی سے لائے گئے تھے اور ہمارا خاندان قانون گو کہلاتا ہے۔مغلوں کے وقت سے اراضی کے متعلق قوانین کا جاننا اور بندو بست اراضی کرنا ہمارا خاندانی پیشہ تھا۔ایک بزرگ شیخ عبدالدائم صاحب عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ کے زمانہ میں مسلمان ہوئے لیکن ہمارا خاندان اس سے بہت پیشتر مسلمان ہو چکا تھا۔جب کہ ہستنا پور اصل وطن ہمارا اس زمانے میں تھا۔