اصحاب احمد (جلد 4) — Page 197
۱۹۷ نیچے جھڑ رہے ہیں۔میں نے یہ خواب حضرت صاحب کی خدمت میں لکھ کر بھیجا۔تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ فاروق کی زیارت سے دین میں استقامت اور شجاعت پیدا ہوتی ہے۔’۹۵۔حضرت صاحب دہلی میں قیام فرما تھے اور وہاں کے لوگوں نے تجویز کی کہ مولوی نذیر حسین صاحب حضرت صاحب سے بحث کریں۔مولوی نذیر حسین صاحب نے بحث کرنے سے انکار کر دیا۔حضور نے مولوی نذیرحسین صاحب کو خط لکھا کہ میں جامع مسجد میں عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلائل بیان کروں گا۔اگر آپ قسم کھا کر کہہ دیں کہ یہ صیح نہیں ہیں تو پھر ایک سال کے اندر اگر آپ پر عذاب نہ آئے تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔اس کا جواب مولوی نذیرحسین صاحب نے کوئی نہ دیا۔جواب نہ آنے پر حضور نے ایک دوسرا خط لکھا جو محمد خاں صاحب اور خاکسار لے کر مولوی نذیر حسین صاحب کے پاس گئے۔اس میں حضور نے لکھا تھا کہ کل ہم جامع مسجد پہنچ جائیں گے۔اگر تم نہ آئے تو خدا کی لعنت ہوگی۔یہ خط جب ہم لے کر گئے تو مولوی نذیرحسین نے ہمیں کہا کہ تم باہر مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس چل کر بیٹھو۔خط انہیں دے دو میں آتا ہوں۔مولوی محمد حسین نے وہ خط کھول لیا۔پھر مولوی نذیرحسین صاحب آگئے اور انہوں نے مولوی محمد حسین سے پوچھا کہ خط میں کیا لکھا ہے۔مولوی محمد حسین نے کہا کہ میں نہیں سنا سکتا۔آپ کو بہت گالیاں دی ہیں اس وقت ایک دہلی کا رئیس وہاں بیٹھا تھا۔اور اس نے بھی مولوی محمد حسین کے پاس بیٹھے وہ خط پڑھ لیا تھا اس نے کہا کہ خط میں تو کوئی گالی نہیں۔مولوی نذیرحسین نے اسے کہا تو بھی مرزائی ہو گیا ہے وہ پھر چپ ہو گیا۔پھر ہم نے مولوی نذیر حسین سے کہا کہ آپ نے جو کچھ جواب دینا ہو دے دیں۔مولوی محمد حسین نے کہا ہم کوئی جواب نہیں دیتے تم چلے جاؤ تم ایچی ہو خط تم نے پہنچا دیا ہے۔ہم نے کہا ہم جواب لے کر جائیں