اصحاب احمد (جلد 4) — Page 198
۱۹۸ ، گے۔پھر لوگوں نے کہا جانے دو۔غرض انہوں نے جواب نہیں دیا۔اور ہم نے سارا واقعہ حضرت صاحب کے پاس آکر عرض کر دیا۔اگلے دن ہم سب جامع مسجد میں چلے گئے۔ہم بارہ آدمی حضرت صاحب کے ساتھ تھے۔جہاں تک یاد ہے محمد خاں صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، منشی اروڑا صاحب، حافظ حامد علی صاحب، مولوی عبد الکریم صاحب، محمد سعید صاحب جو میر ناصر نواب صاحب کے بھانجے تھے اور خاکسار باقیوں کے نام یاد نہیں رہے۔جامع مسجد کے بیچ کے دروازے میں جا کر ہم بیٹھ گئے۔حضرت صاحب بھی بیٹھ گئے۔یہ یاد پڑتا ہے کہ سید امیر علی اور سید فضیلت علی سیالکوٹی بھی تھے۔دروازے کی دائیں طرف یعنی در یسے کی طرف ہم تھے اور فرش کے ایک طرف مولوی نذیر حسین ، مولوی محمد حسین آٹھ سات آدمی تھے۔تمام صحن مسجد کا لوگوں سے پر تھا۔ہزاروں آدمی تھے۔انگریز کپتان پولیس آیا۔کثرت ہجوم کی وجہ سے وہ گھبرایا ہوا تھا اس نے حضرت صاحب سے آکر مسجد میں پوچھا کہ آپ کا یہاں آنے کا کیا مقصد ہے۔شیخ رحمت اللہ صاحب نے انگریزی میں اس سے ذکر کیا یہ غرض ہے کہ حضرت صاحب دلائل وفات عیسی بیان کریں گے اور نذیر حسین صاحب قسم کھا کر کہہ دیں کہ یہ صحیح نہیں۔وہ پھر مولوی نذیرحسین صاحب کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ تمہیں ایسی قسم منظور ہے۔اس نے کہا میں قسم نہیں کھانے کا۔اس نے آکر حضرت صاحب سے کہا کہ وہ آپ کے دلائل سن کر قسم کھانے پر آمادہ نہیں۔اس لئے آپ چلے جائیں۔حضرت صاحب چلنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔میں نے حضور کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا کہ حضور ذرا ابھی ٹھہر جائیں۔اور میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب سے کہا کہ آپ کپتان پولیس سے کہیں کہ پہلے فریق ثانی جائے۔پھر ہم جائیں گے۔پھر اس نے انہیں کہا تو وہ مصر ہوئے کہ پہلے ہم جائیں۔غرض اس