اصحاب احمد (جلد 4) — Page 196
۱۹۶ دیکھا۔دوم۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب مجھے مدینہ منورہ لے گئے اور جالیوں میں سے میں زیارت قبر کرنا چاہتا ہوں۔مگر وہ جالی میرے قد سے اونچی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری دونوں بغلوں میں ہاتھ دے کر اونچا کر دیا۔تو پھر میں نے دیکھا کہ سامنے کی عمارت کوئی نہیں رہی اور آنحضرت کی قبر کھلی ہوئی ہے۔اور آپ بیٹھے ہیں۔۵۔ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے آنحضرت کے مزار پر ساتھ لے گئے۔وہاں پر ایک چبوترہ سا تھا جس پر آنحضرت رونق افروز تھے اور وہاں کسی قدر فاصلہ پر ایک شخص جرنیلی وردی پہنے ایک چبوترے پر بیٹھا تھا مجھے حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی خدمت میں پیش کیا کہ آپ اسے بیعت فرمالیں۔چنانچہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا اور آنحضرت نے عربی میں ایک فقرہ فرمایا جواب مجھے یاد نہیں رہا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ تمام نیکیوں کو اختیار کرنا اور تمام بدیوں سے پر ہیز کرنا۔میں بیعت کرنے کے بعد مصافحہ کرنے کے لئے اس شخص کی طرف گیا جو جرنیلی وردی پہنے بیٹھا تھا۔مجھے آنحضرت نے جاتے ہوئے روک دیا۔یعنی میرا ہاتھ پکڑ کر واپس کر دیا اور فرمایا وہ معاویہ ہے۔4۔ایک دفعہ میں تہجد پڑھتا تھا۔ایک دم مجھے اس قدر خوشبو آئی کہ تمام مکان معطر ہو گیا۔میری بیوی سورہی تھی اسے چھینکیں آنے لگیں۔اور اس نے کہا کہ تم نے بہت سا عطر لگایا ہے۔جس کی وجہ سے مکان معطر میں نے کہا میں نے کوئی خوشبو نہیں لگائی۔ے۔ایک دفعہ میں نے خواب میں حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ آپ کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں اور آپ کے پاس تلوار رکھی ہوئی ہے جس سے موتی اوپر ہے۔