اصحاب احمد (جلد 4) — Page 75
۷۵ سنایا کرتے تھے اور بہت سے آدمی جمع ہو جایا کرتے تھے۔مختلف لوگوں اور مجھ سے بھی سنا کرتے تھے اور حاجی صاحب لوگوں پر یہ ظاہر فرماتے تھے کہ یہ مجدد ہیں۔ددمنشی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے براہین احمدیہ کو اس وقت سنا اور خود اسے پڑھا۔تو میں نہیں جانتا کہ اس کے اندر کیا جذب اور کشش تھی کہ میری عقیدت حضرت صاحب سے نادیدہ بڑھتی چلی گئی۔اور اپنی تنہائی میں اس پر غور کرتے۔خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے اور مسلمانوں کی عام حالت اورا سلام پر دشمنوں کے حملوں کو مشاہدہ کرتے تھے اور ان کا دل ایک قسم کے غم اور افسردگی سے بھرا ہوا تھا۔مگر براہین احمدیہ نے ان کے قلب میں ایک شمع روشن کر دی۔اور ان کو بہت جلد پنجاب آنے کا جوش پیدا ہو گیا۔جوانی کا آغاز اور دین سے محبت کی چنگاری ان کے سینہ میں بھڑک اٹھی۔وہ ۱۹۴۱ بکرمی ۱۸۸۴ میں کپورتھلہ آئے۔اس وقت تک چوتھی جلد بھی شائع ہو چکی تھی۔ادھر حاجی صاحب کو ان کی کسی پنہانی معصیت کی وجہ سے حضرت اقدس سے ارادت اور عقیدت شکوک وشبہات سے بدل چکی تھی۔منشی صاحب کی دنیوی ترقی اور وسائل معاش کا تعلق عام اسباب کے ماتحت حاجی صاحب کے وجود سے وابستہ تھا۔لیکن مذہبی اختلاف نے اس جوان صالح کو اپنے مقام سے ہٹایا نہیں۔بلکہ ان کے اندر ایک جوش پیدا ہو گیا۔اور انہوں نے کپورتھلہ میں براہین کا با قاعدہ درس شروع کر دیا۔یہ دنیا بھر میں براہین کا پہلا درس تھا جس کو کپورتھلہ کی جماعت احمدیہ کے آدم حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے شروع کیا تھا۔نہ صرف اسی پر اکتفا کیا بلکہ حضرت اقدس سے براہ راست تعلق پیدا کیا اور جماعت کپورتھلہ میں ایک ایسی روح پیدا ہوگئی۔کہ من تو شدم تو من شدی کا نمونہ نظر آگیا۔قادیان کی آمد ورفت کا سلسلہ شروع ہوا۔اور تعلقات محبت میں دن بدن اضافہ ہونے لگا۔اور کپورتھلہ کی