اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 74 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 74

۷۴ ہوئی جو اس خبر کے پڑھنے سے ہوئی۔اور میں اپنے دلی جذبات سے بے قرار ہو گیا اور یہ سطور اسی جوش اور تحریک کا نتیجہ ہیں۔جماعت کپورتھلہ کے آدم حضرت منشی ظفر احمد رضی اللہ عنہ کپورتھلہ کی جماعت کے آدم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے اہل بیت کے ساتھ ان کو قابل رشک محبت تھی۔منشی صاحب کے حالات زندگی میں تفصیل سے اس وقت نہیں لکھ رہا۔بلکہ ان کی بعض خوبیوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تعلقات محبت اور عقیدت کا ذکر اس لئے کرنا چاہتا ہوں تا جماعت میں حدیث العہد اور لوگ اس کو ایک اسوۂ حسنہ قرار دیں۔اور اپنے اندر وہ رنگ پیدا کریں۔حضرت مسیح موعود سے تعلقات کی ابتداء حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو اولاً ۱۸۸۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات بابرکات کا علم ہوا۔جب کہ ان کی عمر ۱۸۔۲۰ برس کی تھی۔براہین احمدیہ کی دوجلد میں شائع ہو چکی تھیں۔حاجی ولی اللہ صاحب جو ریاست کپورتھلہ میں ایک معزز عہد یدار اور اس وقت کے مروجہ اسلام کی اصطلاح میں دیندار تھے۔منشی صاحب کے اور حضرت منشی بیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کے خاندان کے ممتاز ممبر تھے۔انہیں ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت تھی اور براہین احمدیہ کو نہ صرف یہ کہ خود پڑھتے تھے بلکہ لوگوں کو سناتے تھے۔چنانچہ حضرت منشی صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ حاجی صاحب ۳۸ یا ۳۹ بکرمی میں ( جو ۸۲ ۱۸۸۳ء کے مطابق ہے ) قصبہ سرادہ ضلع میرٹھ تشریف لے گئے تھے۔اس وقت ان کے پاس براہین احمدیہ تھی۔وہ حاجی صاحب اسے