اصحاب احمد (جلد 4) — Page 134
۱۳۴ ان سے پوچھا کہ آپ تو سب حالات جانتے ہیں۔بیعت کیوں نہیں کر لیتے۔انہوں نے کہا مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا صاحب کے پاس دو جن سکھ دیو اور ہر دیو ہیں۔اور ان پر ان کا دار ومدار ہے۔اور گویا میں اس الہام کے ذریعہ سے بیعت سے روکا گیا ہوں۔میں نے حضرت صاحب سے یہ ذکر کیا کہ ان کا الہام غالبا شیطانی ہے۔حضور نے فرمایا نہیں یہ رحمانی الہام ہے۔جس زبان میں الہام ہو اس کے مطابق معنے کرنے چاہئیں۔دیوسنسکرت میں فرشتے کو کہتے ہیں۔گویا راحت کے فرشتے اور ملا لگتہ اللہ ہمارے مددگار ہیں۔تم انہیں لکھو۔چنانچہ میں نے انہیں گڑگانواں میں جہاں وہ منصف تھے خط لکھا۔جواب نہ آیا۔تھوڑے عرصہ کے بعد عبدالواحد صاحب کا انتقال ہو گیا۔عبدالواحد صاحب مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے مرید تھے۔۱۹۴۱ بکرمی میں حضرت صاحب کے اشتہار کبھی حاجی صاحب کے پاس کپورتھلہ آتے تو مجھے حاجی صاحب یہ کہہ کر دیتے کہ یہ ہیں تمہارے پیر۔دوم۔ہمارے رشتہ دار منشی عبداللہ صاحب جالندھر میں صدر واصل باقی نویس تھے جو حاجی صاحب کے بہنوئی تھے۔ان سے ملنے میں جالندھر جایا کرتا تھا۔جالندھر میں اسی طرح ایک مرتبہ گیا ہوا تھا کہ معلوم ہوا کہ ایک بزرگ کہیں سے جالندھر آرہے ہیں۔یہ سرمہ چشم آریہ کی طباعت سے پیشتر کا واقعہ ہے۔جالندھر سٹیشن پر میں اور میرا ایک رشتہ دار گئے۔وہاں دو تین سو آدمی حضور کی پیشوائی کے لئے موجود تھے۔اور کنور بکر مان سنگھ صاحب نے اپنا وزیر اور سواری حضور کے لانے کے لئے بھیجے ہوئے تھے۔حضرت صاحب ریل سے اترے یہ صحیح یاد نہیں۔کہ حضور کہاں سے تشریف لا رہے تھے۔لوگوں نے مصافحہ کرنا شروع کیا اور وزیر مذکور نے حضور کو بکرمان سنگھ صاحب کے ہاں لے جانے کو کہا۔اس درمیان میں میں نے بھی مصافحہ کیا۔تو حضور نے دریافت فرمایا۔آپ کہاں رہتے