اصحاب احمد (جلد 4) — Page 135
۱۳۵ ہیں۔میں نے کہا کپورتھلہ۔لیکن یہاں میرے ایک رشتہ دار منشی عبداللہ صاحب بوچڑ خانہ کے قریب رہتے ہیں۔حضور نے فرمایا۔ہم آپ کے ساتھ چلتے ہیں۔چنانچہ بکر مان سنگھ صاحب کی گاڑی میں حضور مولوی عبداللہ صاحب سنوری۔حافظ حامد علی صاحب اور خاکسار سوار ہوکر منشی عبداللہ صاحب کے مکان پر آگئے۔جب حضور گاڑی سے اترنے لگے تو بہت ہجوم لوگوں کا ہو گیا۔عورتیں اپنے بچے حضرت صاحب کی طرف کرتی تھیں کہ حضور کے کپڑوں کی ہوا لگ جائے۔اس وقت اعتقاد کا یہ عالم تھا۔غرض حضور منشی عبداللہ صاحب کی بیٹھک میں فروکش ہوئے۔۵۔بیٹھک مذکور میں ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ سرسید کو کیا سمجھتے ہیں؟ فرمایا میں تو ایک طرح دیا نند کی بھی اس لحاظ سے قدر کرتا ہوں کہ وہ بت پرستی کے خلاف ہے اور سرسید تو مسلمان ہے۔اور انہوں نے تعلیمی کام مسلمانوں کے لئے کیا ہے۔ان کا ممنون ہونا چاہیئے۔سرسید کو مسلمان کہنا بہت سے لوگوں کو نا گوار معلوم ہوا۔پھر حضور کسی بات پر تقریر فرماتے رہے۔۔اس زمانے کے اعتقاد کے موجب کہ دل کی بات اہل اللہ بتا دیا کرتے ہیں۔میں نے اپنے دل میں سوچا کہ نماز میں وساوس کس طرح دور ہو سکتے ہیں۔تقریر کرتے کرتے حضور نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا۔ایاک نعبد کے تکرار سے۔اور پھر تقریر جاری رکھی۔میرا اسوقت آپ پر ایمان ہو گیا۔دد منشی عبداللہ صاحب کچھ انڈوں کا حلوا بنا کر لائے۔حضور نے فرمایا مجھے بھوک نہیں ہے لیکن منشی صاحب کے اصرار پر تھوڑا سا کھا لیا۔ظہر کی نماز حضور نے قریب کی مسجد میں پڑھی آٹھ نو بجے صبح آپ سٹیشن پر اترے تھے۔اور بعد نماز ظہر آپ واپس سٹیشن پر تشریف لے گئے۔آپ گاڑی میں بیٹھ گئے۔اور میرے مصافحہ کرنے پر فرمایا۔ہم سے خط وکتابت رکھا