اصحاب احمد (جلد 4) — Page 133
۱۳۳ سے سرادے ان سے ملنے کے لئے آئے۔حاجی صاحب کے پاس براہین احمدیہ تھی۔اور حاجی صاحب سرادہ میں براہین احمدیہ مجھ سے سنا کرتے تھے۔حاجی صاحب کو براہین احمدیہ حضرت صاحب نے بھیجی تھی اور ان سے حضرت صاحب کی خط و کتابت بھی تھی۔” براہین احمد یہ جب میں سرا دہ میں سنایا کرتا تھا۔تو یہ غالباً ۱۹۳۹ بکرمی کا واقعہ ہے۔اس وقت میری عمر ۱۹ سال کی ہوگی۔براہین احمد یہ سناتے وقت مجھے حضرت صاحب سے عقیدت ہوگئی اور سامعین کہا کرتے تھے کہ یہ یعنی مصنف بے بدل منشی ہے۔ددمنشی عبدالواحد صاحب بٹالہ میں تحصیلدار تھے اور وہ حاجی ولی اللہ صاحب کے ماموں اور ہماری برادری میں سے تھے۔حاجی صاحب بھی ہمارے قریبی والدم کے ننھیال کی طرف سے تھے۔ا۔عبدالواحد صاحب بٹالہ سے قادیان حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب سے ملنے جایا کرتے تھے جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر ۱۵/۱۴ سال کی ہوگی۔میرے کتاب سناتے وقت عبدالواحد صاحب نے ذکر کیا کہ حضرت صاحب اس عمر میں سارا دن قرآن شریف پڑھتے تھے اور حاشیہ پر نوٹ لکھتے رہتے تھے۔اور مرزا غلام مرتضی صاحب فرماتے کہ یہ کسی سے غرض نہیں رکھتا۔سارا دن مسجد میں رہتا ہے اور قرآن شریف پڑھتا رہتا ہے۔منشی عبدالواحد صاحب قادیان بہت دفعہ جاتے اور ان کا بیان تھا کہ حضرت صاحب کو ہمیشہ قرآن شریف پڑھتے دیکھا ہے۔۲۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے ایک دفعہ ایک مرض کے متعلق عبدالواحد صاحب کو اپنے صرف پر ۲۰۰ روپے کی ایک معجون تیار کر کے دی۔جس سے مرض جاتا رہا۔عبدالواحد صاحب نے بعدش قیمت ادا کرنی چاہی جو مرزا صاحب نے قبول نہ فرمائی۔۳۔عبد الواحد صاحب احمدی نہیں ہوئے۔میں نے اپنی بیعت کے بعد