اصحاب احمد (جلد 4) — Page 81
زندہ دلی ΔΙ حضرت منشی ظفر احمد صاحب با قاعدہ تحصیل کئے ہوئے عالم تھے۔اس زمانہ میں منشی کا لفظ اس شخص پر بولا جاتا تھا جو قدرت انشاء رکھتا ہو اور نہائیت ذی علم ہو وہ ایک قادر القلم منشی تھے۔66 میں یہاں ان کی زندہ دلی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ان کی طبیعت پاک مداح کا ایک عجیب رنگ رکھتی تھی۔اور وہ نہایت سنجیدگی سے ایسی بات کہہ جاتے جو طبیعت میں شگفتگی پیدا کر دیتی۔ان کی اس فطرت کا اثر آخر تک باقی رہا۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جو نہایت کریم ورحیم ہے اس نے بھی ان کی اس فطرت کا ذکر ایک واقعہ میں اپنے کلام سے فرمایا۔کچھ عرصہ گزرتا ہے عزیزم محترم منشی محمد احمد صاحب مظہر کا چھوٹا لڑ کا ٹائیفائڈ سے بیمار تھا اور حالت نازک ہوگئی۔حضرت منشی صاحب بھی اس کے لئے دعا کر رہے تھے۔آواز آئی کہ ” دق کیوں کر رکھا ہے آرام تو آ گیا ہے۔صبح پوتے کو دیکھنے گئے۔اور رات کا واقعہ بیان کر کے ہنسے اور فرمایا کہ واقعی میں نے دق کر دیا تھا نا دان جو معرفت الہیہ کے رموز سے واقف نہیں۔اور جو بندہ اور اس کے خدا کے تعلقات کو نہیں سمجھتے وہ اس قسم کے الفاظ سے ٹھوکر کھاتے ہیں۔مگر یہ صادقوں کی تسلی اور روح کی سکینت کے لئے بطور جان ہیں ان سے ہی وہ اندازہ کرتے ہیں کہ اپنے مولا پر انہیں کیا ناز ہے۔بخاری میں ایک حدیث آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے مومن بندے کی جان لینے میں تردد ہوتا ہے۔یہ اس محبت کا اعلیٰ مقام ہے۔جو خدا تعالیٰ کی راہ میں موت کو قبول کر کے ملتا ہے۔حضرت منشی صاحب اور اس عصر سعادت کی جماعت نے آقا و مولیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مصائب اور مشکلات - کے مقابلہ کے لئے جو نسخہ سیکھا تھا۔وہ یہی دعا اور استقامت علی الدعا ہی