اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 80 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 80

۸۰ الصلوۃ والسلام کے قریباً ہر سفر میں ساتھ رہے ہیں۔اور احباب کپورتھلہ جب بھی اپنے دل میں ایک جوش پاتے فوراً قادیان چلے آتے۔انہوں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ اس راہ میں کسی قسم کا نقصان بھی ہوتا ہے۔یا ہوسکتا ہے۔انہوں نے عملی طور دین کو دنیا پر مقدم کر لیا تھا۔نیانو دن پرانا سودن ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جالندھر کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے۔اور اکثر احباب بھی اس موقعہ پر آگئے تھے۔ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کہ حضور کسی مقام پر گئے ہوں اور احباب پروانوں کی طرح ادھر ادھر سے آ کر جمع نہ ہو گئے ہوں۔ان آنے والوں میں دور ونزدیک یعنے فاصلہ اور خرچ کا سوال ہی نہ ہوتا تھا۔ان کی ایک ہی غرض ہوتی تھی کہ ے روز واقعه پیش نگار خود با حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قیام کسی قدر لمبا ہو گیا اور احباب جو رخصت لے کر آئے تھے یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے چلے گئے۔یہاں تک کہ صرف منشی ظفر احمد صاحب رہ گئے۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ حاجی پور سے روز آتے اور چلے جاتے۔مگر منشی صاحب دھونی رمائے بیٹھے تھے۔ایک دن حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نظارہ کو دیکھ کر انہیں خطاب کر کے فرمایا۔”نواں نو دن پرانا سودن“۔حضرت منشی صاحب نے اپنی اس سعادت پر جائز فخر کیا۔فرمایا کرتے کہ مجھے اس وقت بہت ہی لطف آیا کہ میں خدا کے فضل سے سو دن والوں اور پرانوں میں شریک ہوں۔اور میں دل میں سمجھتا تھا کہ الحمد للہ اب خلوت میسر آگئی۔مگر چند روز کے بعد پھر حلقہ احباب وسیع ہونے لگا۔