اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 199 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 199

١٩٩ بارے میں کچھ قیل وقال ہوتی رہی۔پھر کپتان پولیس نے قرار دیا کہ دونوں ایک ساتھ اٹھیں۔ایک دروازے سے وہ اور دوسرے سے ہم چلے جائیں۔غرض اس طرح ہم اٹھے۔ہم بارہ آدمیوں نے حضرت صاحب کے گرد حلقہ باندھ لیا۔اور ہمارے گرد پولیس نے۔اس وقت دہلی والوں نے اینٹ پتھر بہت پھینکے۔مولوی نذیرحسین صاحب پر بھی۔اور ہم پر بھی۔ہم دریے کی جانب والے دروازے سے باہر نکلے۔تو ہماری گاڑی جس میں ہم آئے تھے دہلی والوں نے کہیں ہٹا دی تھی۔کپتان پولیس نے ایک شکرم میں ہمیں سوار کرایا۔کوچ بکس پر انسپکٹر پولیس۔دونوں پائدانوں پر دوسب انسپکٹر اور پیچھے سپاہی گاڑی پر تھے۔گاڑی میں حضرت صاحب محمد خاں صاحب۔منشی اروڑا صاحب۔خاکسار اور حافظ حامد علی تھے۔پھر بھی گاڑی پر اینٹ پتھر برستے رہے۔جب ہم چلے تو مولوی عبدالکریم صاحب پیچھے رہ گئے۔محمد خاں صاحب گاڑی سے کود پڑے اور مولوی صاحب کے گرد لوگ جمع ہو گئے۔جو محمد خاں صاحب کو دیکھ کر ہٹ گئے۔اور محمد خاں صاحب مولوی صاحب کو لے کر آئے۔۹۶ - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عید الاضحی کے روز مسجد اقصیٰ میں کھڑے ہو کر فرمایا۔کہ میں الہاماً چند الفاظ بطور خطبہ عربی سنانا چاہتا ہوں۔مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب دونوں صاحب تمام و کمال لکھنے کی کوشش کریں۔یہ فرما کر آپ نے خطبہ الہامیہ عربی میں فرمانا شروع کر دیا پھر آپ اس قدر جلدی بیان فرما ر ہے تھے کہ زبان کے ساتھ قلم کا چلنا مشکل ہو رہا تھا۔اور ہم نے اس خطبہ کا خاص اثر یہ دیکھا کہ سب سامعین محویت کے عالم میں تھے اور خطبہ سمجھ میں آ رہا تھا۔ہر ایک اس سے متاثر تھا۔مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب بعض دفعہ الفاظ کے متعلق پوچھ کر لکھتے تھے۔ایک لفظ خناطیل مجھے یاد ہے کہ اس کے متعلق بھی پوچھا خطبہ ختم ہونے پر جب