اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 200 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 200

۲۰۰ حضور مکان پر تشریف لائے تو مجھے اور مولوی عبد اللہ صاحب سنوری اور میر حامد شاہ صاحب ہم تینوں کو بلایا۔اور فرمایا کہ اس خطبہ کا جو اثر ہوا ہے اور جو کیفیت لوگوں کی ہوئی ہے اپنے اپنے رنگ میں آپ لکھ کر مجھے دیں۔مولوی عبداللہ صاحب اور میر صاحب نے تو مہلت چاہی۔لیکن خاکسار نے اپنے تاثرات جو کچھ میرے خیال میں تھے اسی وقت لکھ کر پیش کر دیئے۔میں نے اس میں یہ بھی لکھا کہ مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب بعض الفاظ دوران خطبہ میں دریافت فرماتے رہے وغیرہ۔حضور کو میرا مضمون بہت پسند آیا۔اس میں لوگوں کی محویت کا عالم اور کیفیت کا ذکر تھا کہ باوجود بعض لوگوں کے عربی نہ جاننے کے وہ سمجھ میں آرہا تھا۔(حق بات یہ ہے کہ اس کا عجیب ہی اثر تھا جو ضبط تحریر میں نہیں آسکتا ) دوران خطبہ میں کوئی شخص کھانسا تک نہیں تھا۔غرض حضرت صاحب کو وہ مضمون پسند آیا۔اور مولوی عبدالکریم صاحب کو بلا کر خود حضور نے وہ مضمون پڑھ کر انہیں سنایا۔اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ خطبے کے ساتھ اس مضمون کو شائع کروں۔مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ اس نے (عاجز نے) تو ہمیں زندہ ہی دفن کر دیا ہے۔(مولوی عبدالکریم صاحب کی خاکسار سے حد درجہ دوستی اور بے تکلفی تھی ) حضرت صاحب نے ہنس کر فرمایا اچھا ہم شائع نہیں کریں گے۔پھر میں کئی روز قادیان رہا۔اور خطبہ الہامیہ کا ذکر اذکار ہوتا رہا۔مولوی عبدالکریم صاحب زبان سے بہت مذاق رکھتے تھے۔اس لئے خطبے کی بعض عبارتوں پر جھومتے اور وجد میں آجاتے تھے اور سناتے رہتے تھے۔اور اس خطبے کے بعض حصے لکھ کر دوستوں کو بھی بھیجتے رہتے تھے۔۹۷۔ایک مرتبہ حضور سیالکوٹ میں ایک ماہ تک ٹھہرے رہے۔حضور کا وہاں لیکچر تھا۔عبدالمجید خاں صاحب مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی اور خاکسار لیکچر والے دن پہنچے تقریر کے ختم ہونے پر میں نے جا کر مصافحہ