اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 132 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 132

۱۳۲ دو شیخ حسن علی صاحب ضلع میرٹھ میں ۳۶ گاؤں کے مالک تھے جو غدر میں جاتے رہے۔شیخ فیض اللہ صاحب قصبہ باغپت ضلع میرٹھ میں تحصیلدار تھے۔اور حافظ احمد اللہ صاحب سلطان پور ریاست کپورتھلہ میں بڑے دبدبے اور شان کے تحصلیدار رہے ہیں۔اور اب تک ان کی یاد کپورتھلہ میں تازہ ہے۔”میری پیدائش قصبہ باغپت ضلع میرٹھ کی ہے۔۱۹۴۱ بکرمی میں باغپت سے میں کپورتھلہ آیا۔۴۱ بکرمی تک میری رہائش باغپت میں رہی۔وہاں شیخ فیض اللہ صاحب تحصیلدار تھے۔اور میرے والد مرحوم باغپت میں بٹوارہ کی تقسیم پر متعین تھے۔باغپت میں ملازم ہونے سے پیشتر والدم گجرات اور جالندھر میں منصرم رہے تھے اور بندوبست میں کام کرتے تھے۔دو شیخ قانون گو ہماری قوم ہے۔شیخ عبدالدائم صاحب عالمگیر علیہ الرحمتہ کے زمانے میں مسلمان ہوئے لیکن ہمارا خاندان ان سے بہت پیشتر مسلمان ہو چکا تھا۔جب کہ ہستنا پور اصل وطن ہمارا اس زمانہ میں تھا۔مغلوں کے عہد میں ہم قانون گو ہوتے تھے۔۱۹۴۱ بکرمی میں جب میں کپورتھلہ آیا تو میری عمر ۲۰۔۲۱ سال کی تھی۔میری داڑھی مونچھ کا آغاز تھا۔یہاں آتے ہی میں مجسٹر یٹی میں اپیل نو لیس ہو گیا۔جبکہ لالہ ہر چرند اس مجسٹریٹ تھے۔منشی اروڑا صاحب مرحوم عدالت مذکور میں نقشہ نویس تھے۔اور ان کے ساتھ ہی میری نشست برخاست تھی۔محمد خاں صاحب مرحوم اہلمد تھے بعدالت لالہ دھو ماں مل صاحب اسٹنٹ مجسٹریٹ۔”میرے کپورتھلہ میں آنے سے پیشتر کی بات ہے کہ حاجی ولی اللہ صاحب جو کپورتھلہ میں سیشن جج تھے قصبہ سرادہ ضلع میرٹھ اپنے وطن رخصت پر گئے ہوئے تھے۔اور والدم اور خاکسار بوجہ رشتہ داری باغپت