اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 76 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 76

24 تھے اور بیعت ہونے لگی۔قاضی صاحب نے مجھے مخاطب کر کے کہا کیا آپ بھی بیعت کرنے کی غرض سے آئے ہوئے ہیں؟ میں اس وقت مسجد کے دروازہ میں حضرت مولوی صاحب کے انتظار میں کھڑا ہوا تھا۔میں نے اثبات میں جواب دیا تو قاضی صاحب نے مجھے کہا کہ بیعت ہورہی ہے۔بیٹھ جاؤ اور اپنے سے آگے بیٹھے ہوئے دوست کی کمر پر ہاتھ رکھ لو۔اور الفاظ دہراتے جاؤ۔میں نے تعمیل کی۔جب بیعت اور دعا ہو چکی تو میں پھر دروازہ میں آکر کھڑا ہو گیا۔اور حضرت مولوی صاحب کا انتظار کرنے لگ گیا۔اتنے میں آپ تشریف لائے۔اور میرا ہاتھ پکڑ کر آگے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کھڑ کی مسجد کی جانب شمال تھی لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک میں میرا ہاتھ ڈال کر عرض کیا حضور !یہ کا لکا سے بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں۔( میں ان دنوں ابنالہ سے کا لکا گیا ہوا تھا۔اور چونکہ میں ا کا لکا سے بھی حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں درخواست ہائے دعا بھیجا کرتا تھا۔اس لئے آپ نے کا لکا کا نام لیا۔جہاں ہمارا یونٹ گیا ہو ا تھا ) حضور نے میری طرف نگاہ فرمائی اور فرمایا کیا آپ نے ابھی جو بیعت ہوئی تھی اس میں شامل ہو کر بیعت نہیں کی (مفہوم) خاکسار نے عرض کیا حضور! کر لی ہے۔اس کے بعد میں اسی جگہ بیٹھا رہا اور حضور کے چہرہ مبارک کو دیکھ دیکھ کر درود شریف پڑھتا رہا۔اس وقت حضور مولوی محمد علی صاحب سے انگریزی اخبار غالباً سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور کی خبریں سن رہے تھے۔جب حضور مسجد سے تشریف لے گئے تو میں انبالہ چلا گیا۔پھر حضور کی خدمت میں درخواست کیا کرتا تھا کہ دعا فرمائیں کہ میرا دل دنیا سے نہ لگے۔۱۹۰۸ء میں جب میں کسولی پہاڑ پر گیا وہاں مجھے بابو عبد الحمید صاحب پٹیالوی ملے انہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کی خبر سنائی ہے۔ایک معنی خیز رویا آپ بیان کرتے ہیں کہ غالباً ۱۹۰۶ ء میں میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی ہمارے محلہ میں گھوم رہے ہیں۔چند روز بعد مجھے بٹالہ سے خط ملا کہ ہمارے محلہ میں طاعون کے کیس ہو رہے ہیں۔میں نے دُعا مانگی پھر خواب دیکھا کہ بٹالہ میں ہمارے مراد حضرت شیخ عبدالحمید صاحب ریلوے آڈیٹر جو قریب میں وفات پاگئے ہیں۔