اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 77 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 77

22 محلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور ایک کرسی پر تشریف رکھتے ہیں کرسی کے پاؤں کے نیچے پیسے لگے ہوئے ہیں اور کرسی کے پاس ہی کھڑا ہوا میں حضور علیہ السلام سے باتیں کر رہا ہوں۔کرسی چلنے لگی اور میں بھی حضور کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔حضور ہمارے محلہ میں پھرتے رہے۔اور جب واپس ہونے لگے تو مجھے مخاطب کر کے جو کچھ فرمایا۔اس کا مفہوم تھا کہ تم صادقوں میں سے ہو۔چند روز گذرے کہ بٹالہ سے خط آیا کہ اب خدا کے فضل و احسان سے طاعون نہیں رہی۔محلہ میں امن ہے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ گویا عند اللہ جو مقام صدق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اور جو مقام اس کے خلاف حضور کے مکفر مولوی بٹالوی صاحب کو حاصل ہے وہ اس عجیب رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔روایات آپ بیان کرتے ہیں: (۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادم حضرت حافظ حامد علی صاحب نے سنایا کہ ابتدائی زمانہ میں جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ابھی چھوٹے بچے تھے۔آپ کی آنکھوں میں سوزش وغیرہ سے بہت تکلیف ہوگئی تو حضور انہیں اور حضرت اتم المؤمنین کو لے کر بٹالہ علاج کرانے کے لئے تشریف لے گئے۔میں بھی خدمت میں ساتھ تھا۔بٹالہ پہنچ کر مجھے فرمایا کہ شیخ محمد علی صاحب (والد ڈاکٹر محمد طفیل خاں صاحب) کے پاس جا کر پچاس روپے قرض لے آئیں۔میں شیخ صاحب کے پاس گیا باتوں باتوں میں الہام کا ذکر آ گیا۔شیخ صاحب نے کہا کہ الہام کی بات کچھ ایسی نہیں جس کو بہت وقعت دی جائے۔مجھے بھی الہام ہوتے ہیں۔اور بڑی خشکی اور لاپرواہی سے حضرت اقدس کا ذکر کیا۔بات بڑھ گئی تو میں اُن سے ناامید ہو کر بیزاری کے ساتھ واپس آگیا۔اور حضور کی خدمت میں تفصیلی عرض کی حضور نے خاموشی اختیار فرمائی یا کچھ جواب دیا۔مجھے راوی کو یاد نہیں رہا۔ایک دو روز کے اندر کی بات ہے کہ میں بازار کسی کام کے لئے گیا ہوا تھا کہ ایک چٹھی رسان نے آواز دے کر کہا کہ بھئی! مرزا صاحب کے تم ملازم ہو! میں نے اثبات میں جواب دیا تو اس نے کہا کہ میں دو تین روز سے مرزا صاحب کی تلاش کر رہا ہوں۔مجھے ان کا