اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 14 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 14

۱۴ ایندھن لا دیتے۔(اس زمانہ میں اور اب بھی دیہات میں امام مسجد یا مولوی کو میاں جی کہہ کر پکارتے ہیں ) گورداسپور میں میٹرک میں ایک مدرس مولوی احمد بخش صاحب تھے جو کسی زمانہ میں چیفس کالج لاہور میں پروفیسر رہ چکے تھے۔اُن سے بابو صاحب نے دینی باتیں اور درود شریف پڑھنا سیکھا۔صوفی منش لوگوں کی ملاقات اور اس ماحول کے مطابق حصول روحانیت کے لئے نواح گورداسپور اور اپنے ننھیال میں ہونے والی مجالس وعظ و فقراء میں آپ اس عمر میں خاص شوق سے شرکت کرتے تھے۔ریلوے ملازمت سے قبل با وجود متاہل زندگی کے ایک نیک اہلکار کی صحبت میں لمبے عرصہ تک آپ اپنے سسرال کے گاؤں موضع منگل کوٹلی کی مسجد میں رات دن عبادت کے لئے مقیم رہے۔لاہور میں آپ تا ربا بو بننے کے لئے جو تربیت حاصل کرنے گئے تو اس وقت بھی آپ مسجد وزیر خان۔سنہری مسجد۔داتا گنج بخش۔اور خانقاہوں کی تمام تقاریب۔میلاد شریف وغیرہ میں شرکت کرتے تھے۔اور امام سنہری مسجد سے ایک روپیہ فی پارہ کے عوض آپ نے پانچ پاروں کا ترجمہ بھی پڑھا۔کسب معاش اس زمانہ میں فرسٹ کلاس میٹرک اعلیٰ سرکاری ملازمت حاصل کر سکتا تھا۔لیکن چونکہ آپ کا کوئی مشیر اور سفارشی نہ تھا اس لئے آپ محروم رہے۔البتہ دوا میر زادوں کی اتالیقی کھانے اور بارہ روپے مشاہرہ کے عوض آپ نے کی۔ان میں سے ایک کا دادا اس وقت ضلع کٹھوعہ (ریاست جموں) کا وزیر وزارت (ڈپٹی کمشنر ) تھا۔اس اتالیقی کی وجہ سے دربار میں بھی آپ عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔اس طبقہ کے لوگوں کے حالات آپ کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔وزیر وزارت شیعہ تھا۔اُس نے حضرت علیؓ اور حضرت عائشہ کا ذکر کر کے آپ کی رائے دریافت کی۔اس پر آپ نے اس بارہ میں مطالعہ کیا۔۱۹۰۰ ء میں آپ نے پٹوار پاس کی۔اور دفتر صدر قانونگو گورداسپور میں نائب کلرک متعین ہوئے۔کچھ عرصہ تک موضع نمین کرال تحصیل گورداسپور میں آپ عارضی طور پر پٹواری مقرر ہوئے۔لیکن اس کام میں بے طرح کی بے ضابطگیاں اور غیر اسلامی حالات دیکھ کر آپ کی طبیعت نفور ہوگئی اور آپ نے لاہور میں ریلوے سکنیر زمیں بھرتی ہونے کے لئے مقابلہ کا امتحان دیا اور کام