اصحاب احمد (جلد 3) — Page 13
بالکل مفقود تھا۔تعمیر مساجد اور اذان کے معاملات میں مسلمان جوش میں آتے ہندو آبادی مسلمانوں کو اذان سے منع کرتی تھی۔دتی۔امرتسر۔لاہور سکھر۔کراچی اور حیدر آباد سندھ میں آپ نے صرف کہیں کہیں کسی مشہور مولوی کو درسِ قرآن دیتے دیکھا۔وبس۔کثرت سے نمازیں پڑھنا۔درس۔خطبے۔مناظرے۔جمعتہ الوداع میں کثرت سے شرکت سے مسلمان قطعی نا آشنا تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بعد آپ ہی کے طفیل مسلمانوں کو ان سب امور کی طرف توجہ ہوئی ہے۔آپ کی بعثت سے قبل شہروں اور دیہات میں معدودے چند لوگ نمازوں اور روزہ کی پابندی کرتے تھے۔البتہ میلا دشریف کی مجالس اور تکیوں وغیرہ پر قوالیاں اور خانقاہوں پر مجالس درود وغیرہ منعقد ہوتی تھیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ بابو صاحب کو عہد طفولیت میں اور پھر دورانِ تعلیم میں نیک ماحول میسر آیا۔آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو زبانی پانچ کلمے اور صفت ایمان پڑھائے۔دس سال کی عمر میں آپ نے گاؤں کے چھپڑ پر نہا کر پہلی نماز فجر۔عید الفطر کے روز والد ماجد کی معیت میں ادا کی یہ نماز کچھ ایسے جذبہ سے آپ نے پڑھی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت سے نماز کی محبت آپ کے دل میں گھر کر گئی اور پھر کبھی ناغہ نہیں ہونے پایا۔باوجود ہندو آبادی کے بُرا منانے کے آپ کے والد کبھی کبھار مسجد میں اذان دلواتے تھے۔بابو صاحب نے جو ایک بار گاؤں کی مسجد میں اذان دی تو ہندو جاٹ زمینداروں نے آپ کو پکڑ کر زدو کوب کرنا چاہا اور والدہ نے آپ کو اناج کی کوٹھی ( سٹور ) کے عقب میں چُھپا دیا۔اور والد نے تھانہ دھار یوال میں رپورٹ لکھوائی۔پولیس آئی اور جائوں کو تنبیہ بھی کی لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی کہا کہ مسجد میں اذان دینے کی رسم جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔خاموشی سے نماز پڑھ لیا کرو۔نوشہرہ مجا سنگھ میں دورانِ تعلیم میں میاں محمد عیسی ایک دیندار اور پابند صوم وصلوٰۃ استاد آپ کو میسر آئے۔ان کی تربیت سے آپ کو اسلام سے خاص وابستگی پیدا ہوئی۔چند بجے بشمولیت بابو صاحب ان کی امامت میں جمعہ بھی ادا کرتے اور خدمت کے طور پر میاں جی کے کپڑے بھی اپنے پار چات کے ساتھ جو ہر پر دھو دیتے اور موضع تصہ غلام نبی سے چارہ اور