اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 15 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 15

۱۵ سیکھ کر ۱۹۰۱ء میں سمہ ستہ ریلوے سیشن پر لگائے گئے۔جہاں آپ سٹیشن ماسٹر اور عملہ کے امام الصلوۃ بھی رہے۔تراویح بھی پڑھاتے تھے۔اس وقت آپ کی عمر سترہ اور بائیں برس کے درمیان تھی گویا بالکل نوجوان تھے۔داڑھی رکھنے کی وجہ سے مولوی کے نام سے پکارے جاتے تھے۔آپ لاہور پھر ملتان کے ڈی ، ٹی ، ایس کے دفاتر میں اور پھر سمہ سٹہ کے سٹیشن پر بطور سکنیلر اور وہاں سے احمد پور (جسے بعد میں ڈیرہ نواب کہا جانے لگا) اور سکھر ، روہڑی، جھٹ پٹ، سٹھارجہ، گور دست ستلانی، مغلپورہ، سوہل، کوٹ لکھپت، کوٹ کپورہ، نور پور روڈ، چھانگا مانگا، امرتسر اور قادیان کے ریلوے سٹیشن پر تعینات رہے۔احمدیت کا ذکر سنا اور حضور کی زیارت ہونا آپ تحریر کرتے ہیں کہ میرے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمزاد مرزا کمال الدین کے مُرید تھے۔لیکن ایک روز انہوں نے میری موجودگی میں میری والدہ سے کہا کہ لوگ قادیان والے مرزا صاحب کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔میں تو دیکھ کر آیا ہوں۔بڑا نورانی چہرہ ہے۔ایک روپیہ ہاتھ پر رکھ کر میں تو ان کی اقتداء میں جمعہ پڑھ آیا ہوں۔اوپر کے بیان کے بارے میں اس سے پہلے لکھتے ہیں کہ اپنی چھوٹی عمر میں اپنے والد صاحب کی میری والدہ کے ساتھ کچھ ایسی گفتگو ہوئی ہے پھر یہ بات بیان کر کے لکھتے ہیں کہ یہ بہت خفیف میری یاد ہ خدا کرے یہ میری ذاتی امنگ ہے کہ ہاتھ پر روپیہ رکھنا اور مگر ( مگر یعنی آپ کے پیچھے اور اقتدا میں۔مؤلف ) جمعہ پڑھنا والد صاحب کا حضرت مسیح موعود کے ساتھ ہو قادیان میں جماعت کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھنا تو مرزا کمال الدین صاحب ( کا) شاید واقعہ نہیں۔خود حضرت مرزا صاحب مسیح موعود کا واقعہ ہو۔واللہ اعلم با الصواب۔بابو صاحب کا خیال درست ہے اوّل مرزا کمال الدین صاحب بے دین اور ملحد شخص تھے۔نماز وجمعہ سے وہ اپنے تئیں بے نیاز سمجھتے تھے۔دوم - نورانی چہرہ بوجہ بزرگی کسی نے بھی مرزا کمال الدین کے متعلق بیان نہیں کیا اور نہ یہ کہا جاسکتا تھا۔بلکہ حضرت مسیح موعود کے متعلق ہی بیان کرتے تھے۔سو تم۔بُرا بھلا اور مخالفت حضور ہی کی ہوتی تھی۔مرزا کمال الدین کی نہ ہی مذہبی لحاظ سے شہرت تھی نہ ان سے مذہبی لحاظ سے کسی کو خطرہ تھا کہ جماعت بن جائیگی اور ترقی کرینگے تو کیا ہوگا۔چہارم۔والد مرزا کمال الدین صاحب کے مُرید تھے اس لئے اگر مرزا کمال الدین نماز جمعہ وغیرہ