اصحاب احمد (جلد 3) — Page 115
۱۱۵ پورا کر دیا۔اور حضرت صاحب سے عرض کیا کہ مولوی علی احمد صاحب حضرت خلیفہ اول کی وفات پر قادیان آئے تھے۔اور مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر ٹھہرے تھے۔اب حضور کے سامنے بیٹھے ہیں۔سوال کر کے اپنی تسلی کر لیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں تین روز تقریر میں سنتا رہا ہوں۔میرا دل صاف ہو گیا ہے۔اور کوئی بات پوچھنے والی باقی نہیں رہی۔میں نے خوش ہو کر حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! یہ بات الگ رہی۔میں چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب حضور سے کچھ سوالات کر کے جواب لیں۔پھر مولوی صاحب نے انکار کیا اور کہا کہ میرے دل میں کوئی شبہ نہیں رہا۔مجھے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔میں نے زور دیا نیز حضور سے عرض کیا کہ مولوی صاحب کو کہیں کہ ضرور سوال کریں تو حضرت صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامات کی کاپی جوازالہ اوہام طبع اول کے سائیز کی تھی اور قریباً اتنی ہی موٹی تھی کھول کر اس کا ایک صفحہ ہمیں دکھلایا اور پڑھا جس میں تحریر تھا کہ آج محمود نے مجھے اپنی خواب سنائی۔اور فرمایا کہ دیکھو یہ تحریر حضرت صاحب کی ہے میں اس وقت بچہ تھا۔میری تحریر نہیں۔اور خواب کی تعبیر یہی ہے کہ میں خلیفہ بنوں گا اور ہمیں یہ دکھلا کر اس کے دوسرے صفحہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الہامات حضور کی اپنی قلم سے لکھے ہوئے ہیں۔جن سے ہر قسم کا شبہ رفع ہو جاتا ہے۔فرمایا کیا یہ کام بھی میں خود ہی کر سکتا تھا کہ خود ہی خواب بنالوں اور اسکی تعبیر بھی یہ ہو کہ میں خلیفہ بنوں گا۔بعد ازاں پھر میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ کوئی سوال تو کریں۔آخر تنگ آکر مولوی صاحب نے کوئی سوال کیا جس کا حضور نے جواب دیا۔اتنے میں بڑی رات ہو گئی۔میں نے کہا کہ حضور میں حضرت خلیفہ اول کی وفات پر نہ آسکا۔اور حضور کی تحریری بیعت کر لی تھی۔اب دستی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔تو حضور نے ہاتھ بڑھایا۔اور میں نے حضور کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔اس کے بعد حضور نے دُعا فرمائی۔جب دُعا ہو چکی اور میں تعجب اور حیرت میں ہی گرفتا ر تھا کہ یہ کیا ہوا کہ مولوی صاحب کہتے تو یہ ہیں کہ میرا دل صاف ہو گیا ہے، مگر بیعت بھی نہیں کرتے۔اتنے میں مولوی صاحب نے عرض کیا کہ میں بھی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔حضور نے ان کی بیعت بھی قبول فرمائی۔اور دعا کی۔اب میری خوشی