اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 114 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 114

۱۱۴ قادیان جائیں گے۔میں اور سید محمد اشرف صاحب ان کو اپریل ۱۹۱۴ء میں قادیان لے گئے۔میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ میں مولوی علی احمد صاحب حقانی کو اس وعدہ پر لایا ہوں کہ حضور سے علیحدگی میں ان کی ملاقات کرائی جائے گی۔حضور نے فرمایا میں آج رات آپ دونوں کو بلاؤں گا۔مسجد مبارک میں رات کے وقت انتظار کریں۔ہم لوگ بڑی رات تک بیٹھے رہے۔مگر ہمیں کسی نے نہ بلایا۔دوسرے دن میں نے عرض کیا کہ ہمیں نہیں بلایا گیا۔فرمایا آج رات بلاؤں گا۔مگر وہ رات بھی گزرگئی اور ہم دونوں انتظار میں بڑی دیر تک مسجد مبارک کی چھت پر بیٹھے رہے۔اب تیسرا دن آیا تو میں نے عرض کیا کہ ہماری رخصت کا یہ آخری دن ہے۔کل صبح ہم نے ضرور واپس جانا ہے۔فرمایا آج رات ضرور بلایا جائے گا۔غالبا ۲۰ اپریل تیسری رات تھی۔ہم دونوں پھر مسجد مبارک میں انتظار میں بیٹھے رہے۔رات کے دس بجے ہماری حالت اس شعر کی مصداق تھی۔وعده وصل چوں آتش شود نزدیک شوق تیز تر گردد! کہ کسی نے کہا فضل احمد صاحب کون ہیں۔ان کو حضرت نے بلایا ہے۔خوشی خوشی ہم دونوں گئے۔دستک دینے پر حضور نے دروازہ کھولا اور ہم دونوں کو اپنے پاس بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔ہمارا دل ابھی خوشی کی لذت محسوس ہی کر رہا تھا کہ دروازہ پر پھر دستک ہوئی اور حضرت صاحب خود ہی دروازہ کھولنے گئے۔دیکھا تو مولوی محمد علی صاحب ہیں۔اور ان کے ساتھ ماسٹر فقیر اللہ صاحب۔حضرت ان دونوں کو ہمراہ لے کر کمرے میں تشریف لائے۔بیٹھنے پر مولوی محمد علی صاحب نے کہا میں چند روز کے لئے لاہور جارہا ہوں۔میری طرف سے مائی صاحبہ (یا کہا بیوی صاحبہ) کی خدمت میں میرا سلام عرض کر دیں۔اس کے بعد ہر دو صاحبان رخصت ہو گئے۔حضرت صاحب دروازہ تک گئے۔اور دروازہ بند کر کے آگئے ہے۔اب میں نے مولوی علی احمد صاحب سے کہا کہ لیجئے مولوی صاحب! میں نے اپنا وعدہ حضرت ام المومنین کے لئے بیوی صاحبہ کا لفظ اس وقت عام طور پر بولا جاتا تھا۔مثلاً ”جنابہ بیوی صاحبہ آپ کے متعلق اخبار بدر ۲۷ اپریل ۱۹۱۱ء زیرا اخبار احمد یہ مرقوم ہے۔