اصحاب احمد (جلد 3) — Page 116
کی کوئی انتہا نہ تھی۔میرا دل کہتا تھا لله الحمد ہر آن چیز که خاطر میخواست آخر آمد زپس پردہ تقدیر پدید میں نے حضرت کے حضور کسی وقت عرض کیا کہ مولوی صاحب میں سادگی بہت ہے مجھے ڈر رہتا ہے کہ کبھی پیغامی انہیں دھوکا نہ دے دیں۔ان دنوں نماز جمعہ میں ہی پڑھایا کرتا تھا۔حضور نے فرمایا ان کو امام بنالو۔مجھے اور بھی خوشی ہوئی اور مولوی صاحب موصوف کو نمازوں میں امام بنا دیا گیا ہے۔(1): غالباً ۱۹۱۶ء کی بات ہوگی کہ ایک دفعہ حضرت مولوی علی احمد صاحب حقانی راولپنڈی سے قادیان تشریف لے گئے۔حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر واپس راولپنڈی آگئے۔خاکسار ان دنوں بنوں میں تھا۔انہوں نے مجھے بنوں خط لکھا کہ دوران ملاقات حضور نے آپ کا ذکر کیا تھا میں نے مولوی صاحب کی خدمت میں لکھا کہ کیا ذکر آیا تھا۔اس کے جواب میں مولوی صاحب مرحوم نے یہ شعر تحریر فرمایا مانی از تصویر یار دلستان خواهد کشید حیرتے دارم که نازش را چہاں خواہد کشید ملاقات کیلئے دودن وقت دینے پر بھی نہ بلانے کی کوئی وجہ ہوگی۔ممکن ہے عند الملاقات حضور نے اس کا ذکر کیا ہو۔اب حضرت بابو صاحب زندہ نہیں کہ دریافت کیا جا سکے (مؤلف) الحمد للہ کہ حضرت حقانی صاحب کا انجام بخیر ہوا۔ان کے ایک فرزند مکرم چوہدری بشیر احمد صاحب حقانی بی اے ایل ایل بی قریب میں غالبا لا ہور میں فوت ہوئے ہیں۔وہ کچھ عرصہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے تھے۔ایک اور فرزند مکرم ماسٹر نذیر احمد صاحب رحمانی مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان ور بوہ بھی بہت مخلص بزرگ تھے۔ربوہ میں ۸ نومبر ۱۹۵۹ء کو وفات ہوئی۔اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔حضرت حقانی صاحب کے دو پوتے چوہدری محمد اسلم صاحب اور چوہدری محمد اکرم صاحب لاہور میں سرکاری ملازم ہیں اور اسلامیہ پارک میں سکونت پذیر ہیں۔حضرت حقانی صاحب کی ایک نظم قادیان کے متعلق نہایت وجد انگیز ہے جسکا ذکر مسجد دار الفضل قادیان میں بار ہا خاکسار مؤلف نے بعض صحابہ سے سنا اور وہ محترم رحمانی صاحب سے اس کے اشعار جو انہیں زبانی یاد تھے سکتے تھے۔رضی الله عنهم اجمعین