اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 72 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 72

۷۲ فضل سے بحال رکھا ہوا ہے۔اور اس کی عظمت کے سامنے بارہ میل کے فاصلہ پر بٹالہ میں عیسائیت کا وہ رُعب موجود نہیں بلکہ وہ تقسیم ملک سے قبل ہی ختم ہو چکا تھا۔بٹالہ میں کچھ پادری SEVENTH DAY ADVENTIST مشن کے اور کچھ مکتی فوج کے رہتے ہیں۔اور چند میل پر دھار یوال میں بھی کچھ پادری مقیم ہیں۔اور ایک بڑا شفا خانہ بھی جاری ہے۔لیکن تبلیغی سرگرمیاں صفر کے برابر ہیں۔ایک گروہ امریکن یونائیٹڈ پریس بٹیرین چرچ امریکہ متعدد ریاستوں سے انہیں خواتین اور سات مردوں پر مشتمل ہندوستان کے دوماہ کے سفر پر آیا جس کا مقصد عیسائی تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لیتا اور دیگر مذاہب کے مراکز کو دیکھنا تھا۔اور اس گروپ نے امریکہ سے اپنے لائحہ سفر میں قادیان آنا شامل کیا اور بیرنگ کالج کے پرنسپل کے ذریعہ اس کی اطلاع بھجوائی۔اور وہ بتاریخ ۱۴ اکتوبر ۱۹۶۹ء قادیان بٹالہ سے سات کاروں پر آئے۔اور انہیں تبلیغ ہوئی اور لٹریچر دیا گیا۔تقسیم ملک کے بعد مرکز قادیان کے ذریعہ اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے کم و بیش ایک کروڑ روپیہ جمع ہوا۔سیرت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تبلیغ احمدیت کے متعلق کئی لاکھ روپیہ کا لٹریچر ہی شائع ہوا جو انگریزی، اردو، ملیالم ، ہندی اور گورمکھی میں ہے۔ایک درجن سے زائد مبلغ تیار ہوئے۔مبلغ تیار کرنے والا مدرسہ احمد یہ جاری ہے۔ہفتہ وار بدرسترہ سال سے قادیان سے جاری ہے۔غیر مسلموں پر اس مرکز اور اس کے ساکنین کا اخلاقی اور روحانی نہایت گہرا اثر ہے۔اور غیر مسلم دعاؤں کے لئے رجوع کرتے رہتے ہیں۔اور ہندوستان کے متعد د صوبوں میں جلسہ ہائے سالانہ بھی منعقد ہوتے ہیں۔مثلاً اس دفعہ کیرالہ۔یوپی اور اڑیسہ میں منعقد ہو چکے ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک حضور کی زیارت اور قبول احمدیت پھر آپ لکھتے ہیں بچپن میں مجھے خواب میں کسی نے کہا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھانیدار محمد علی صاحب کے بیٹے ڈاکٹر محمد طفیل خان صاحب کے مکان پر تشریف لائے ہوئے ہیں۔میں بھی اُن کے مکان پر گیا تو مجھے آواز تو آتی تھی یا مجھے خیال آتا تھا کہ