اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 71 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 71

21 کر کے ان کو سرکاری ملازمت دلائی جاتی تھی اس وعدہ پر کہ وہ عیسائی ہو جائیں۔غرض عورتوں اور مردوں میں عیسائیت کی تبلیغ سے ایک قیامت برپا تھی۔جس کا آج کسی کو اندازہ اور خیال بھی نہیں آتا۔چونکہ میں نے عیسائیت کا یہ رُعب داب دیکھا ہوا تھا۔اور مجھے ادنی اقوام نہیں بلکہ بٹالہ کے ان معزز خاندانوں کا بھی علم تھا جن کے چشم و چراغ عیسائی بن کر دجال بن گئے تھے۔اس لئے میرے دل پر بھی عیسائیت کا یہ اثر تھا کہ اتنی بڑی بلا کو خدا ہی دور کرے تو کرے کسی انسان کی مجال نہ تھی۔غالبًا ۱۹۲۰ ء یا ۱۹۲۱ء تھا کہ بٹالہ میں میں نے سنا کہ یہ مدرسہ فروخت ہو رہا ہے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی اس کو خرید رہے ہیں۔یہ بات میرے لئے اس قدر حیرت انگیز اور تعجب خیز تھی کہ سنتے ہی میرے دل نے چاہا کہ میں سٹرک پر ہی سجدہ ریز ہو جاؤں۔میرے وہم میں بھی یہ بات نہ آئی تھی کہ یہ مشن سکول جو مس ٹکر کے لاکھوں روپے کے سود پر چلا کرتا تھا اور جس کی شان و شوکت اور عیسائیت کی ہیبت اور رُعب کی کیفیت میں نے دیکھی ہوئی تھی آج بک رہا ہے۔نیلام ہورہا ہے۔خاک میں مل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت کا یہ ایک عظیم الشان نشان تھا۔جن لوگوں نے عیسائیت کا وہ رُعب بٹالہ میں نہ دیکھا ہو وہ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ نہ معلوم یہ بات کیونکر مشہور ہوگئی۔کیونکہ یہ عمارت اس طرح فروخت نہیں ہوئی۔پہلے کا تو علم نہیں۔لیکن تقسیم برصغیر کے نتیجہ میں برطانوی راج کی جو حمایت اس کو حاصل تھی وہ جاتی رہی۔اور اب تمام عیسائی مشن ہی زوال پذیر ہیں چمبہ شہر کے دیسی پادری نے پندرہ سال قبل سنایا تھا کہ مشن کی آمد بہت کم ہوگئی ہے۔جو عمارات مشنوں کی ہیں ان کی مرمت اور غور و پرداخت مشکل ہورہی ہے۔اور نیز یہ ایک کھلی حقیقت ہے۔جس کا ذکر اخبارات میں آتا رہتا ہے۔کہ غیر ملکی اور دیسی پادریوں میں ایک دوسرے کی مخالفت شروع ہے۔اور دیسی پادری علی الاعلان اس بارے میں مضامین و خطوط ، اخبارات میں بھجواتے ہیں۔دوسری طرف با وجود یکہ قادیان سے حضرت امام جماعت احمد یہ رضی اللہ عنہ اور جماعت کی اکثریت کو اعلام الہی کے مطابق ۱۹۴۷ء میں ہجرت کرنا پڑی پھر بھی قادیان کی عظمت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص